Pakistan

سوال # 42064

مارکیٹ میں (جو آپ اپنے کمپیوٹر سکرین پر دیکھ سکتے ہیں) ہر شے کے بولی لگتی ہے اور ساتھ میں آتا اتنی بولی ہے اور اتنی رقم بتائی جارہی اور اسکے ساتھ ساتھ ہم جس چیز کا بھی گراف دیکھنا چاہیں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اس چیز کی قدروقیمت اس وقت اوپر جارہی ہے یا گر رہی ہے ۔ ان سب چیزوں کی آن لائن ہی خرید و فروخت کی جاتی ہے ۔مثلاً آپ ڈالر کے مقابلے میں یورو اور برطانوی پونڈ خرید تے ہیں ۔ اسکے بعد اگر تھوڑی دیر بعد ۔برطانوی پونڈ کا ریٹ اوپر چلا جا تا ہے جس میں ہو سکتا ہے آپ کو قیمت خرید سے 10، 20 یا کم و بیش ڈالر نفع ہو جائے، پھر آپ اپنی مرضی سے اس معاملے جب چاہیں (نفع میں) بند کردیں ، اور اس طرح بند کرنے سے 20 یا کم وبیش ڈالر کا نفع آپکے اکاؤنٹ میں جمع ہو جائے گا ۔ دوسری طرف اگر یورو کا ریٹ گر جاتا ہے اور آپ اس معاملے کو اسی وقت بند کرنا چاہتے ہیں(تو چونکہ یہ اس وقت نقصان اور مندی چل رہا ہوتا ہے جوکر 10 ، 20 ، کم و بیش یا آپکے سرمایا کے حساب سے ہو سکتا ہے ) تو جو بھی نقصان نظر آ رہا ہوگا وہ آپ کے اکاؤنٹ سے منفی ہو جائے گا .کیا یہ یا اس طرح کا کوئی کا جیسا کوئی کاروبار شرعی طور پر جائز ہے؟

Published on: Oct 17, 2012

جواب # 42064

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 1778-1195/H=11/1433

صحت بیع وشراء کے لیے کمپیوٹر اسکرین پر گراف کا دیکھ لینا کافی نہیں بلکہ قبضہ بھی ضروری ہے، پس صورتِ مسئولہ میں بیع وشراء صحیح نہیں اور بھی مفاسد شرعیہ کا اس میں اندیشہ ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات