India

سوال # 171463

میں نے نیت کی ہے اسلامی فائنانس پر کام شروع کرنے کی جس کے لیے میں ایک کالونی کاٹی ہے جس میں سارے مسلمان احباب پلاٹ لے رہے ہیں ، پلاٹ پر میرا منافع بیس فیصد آیاہے، سارے غریب پریشان لوگ ہیں جن کی حیثیت ایک مشت میں پلاٹ لینے کی نہیں ہے اور پلاٹ کی قیمت بھی صرف ساڑھے تین لاکھ روپئے ہے،اور یہاں پر شہر میں مسلمانوں کے لیے نئی کالونی نہیں کٹ رہی ہے ، غیر وں کی آبادی تو بڑھ رہی ہے، پر اپنے والے مہنگے ہلاٹوں کی وجہ سے نہیں لے رہے ہیں ، اب میں نے ان کے لیے ایک فائنانس کمپنی سے رابطہ کیا ہے جو انہیں پلاٹ پر قرض دے گی اور پردھامنتری یوجنا بھی اپلائی کریں گے، تو قوم کی مدد کرنا میرے لیے نقصان /گناہ تو نہیں ہوجائے گا؟ کیوں اگر میں اسلامی فائنانس کی شروعات کرتا ہوں تو لوگوں کو لون /قسط پر نہیں دے سکتا، کیوں کہ مجھے بھی آگے ادئیگی کرنی ہے پھر لوگ بھی پیسہ دیں گے یا نہیں، پہلے ہی تو میں نے قرض لے کر قوم کے لیے ایک کالونی کاٹی ہے ، نقد میں لوگوں کے پلاٹ لینے کی گنجائش نہیں ہے۔
براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔

Published on: Jul 16, 2019

جواب # 171463

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1052-857/B=10/1440



صورت مذکورہ میں اسلامی فائنانس کمپنی کس طرح قرض دے گی۔ اسی طرح پردھان منتری یوجنا سے جو امداد ملے گی وہ کس طرح ملے گی یعنی اس کی واپسی سود کے ساتھ یا بغیر سود کے۔ سوال میں یہ بات واضح نہیں ہے اگر سود کے ساتھ قرض کی ادائیگی ہوگی تو ظاہر ہے کہ شریعت اسلام میں سود کا لین دین جائز نہیں ہے۔ اور کوئی صورت ہوتو اسے واضح فرمائیں، اس کے بعد جواب تحریر کیا جائے گا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات