Pakistan

سوال # 164377

حضرت، آن لائن فاریکس ٹریڈنگ جس کو علماء اس وجہ سے ناجائز کہتے ہیں کہ اس میں کرنسی کو بغیر قبضہ میں لئے آگے خرید و فروخت کی جاتی ہے۔ اگر ہم اس کام کو اس طریقے پر جو درج ذیل ذکر ہے، کریں تو کیا یہ جائز ہوگا یا نہیں؟
اگر میں کسی کمپنی (دلال ) کا سافٹ ویئر اِنسٹال کرکے اس میں اپنا اکاوٴنٹ اوپن کروں اور وہاں میں اپنے بینک اکاوٴنٹ سے $10 کی ٹریڈنگ کروں اور جس کا کوئی ٹائم فکس نہیں ہے مطلب ایک منٹ میں بھی فائنل ہو سکتا ہے ایک دن میں بھی ایک ہفتہ یااس سے زیادہ ٹائم بھی لگ سکتا ہے لیکن ہمیں کچھ پتا نہیں۔ اور اس کے بعد جب ٹریڈنگ فائنل ہو تو مجھے جو منافع یا نقصان ہوا ہے اس کے بعد جو رقم بنتی ہے اس کو میں اپنے بینک اکاوٴنٹ میں ٹرانسفر کرکے اپنے قبضے میں کردوں۔ اور جب دوبارہ لین دین کرنا ہو تو دوبارہ سے پیسے ڈپوزٹ کروں اور یہی طریقہ دوبارہ کیا جائے۔ کیا یہ طریقہ ٹھیک ہے؟ اور دوسرا شخص جس کے ساتھ لین دین کے ذریعہ دلال اس کا مجھے نہیں پتا کہ اس کا کیا طریقہ کار ہے۔ اگر یہ اس کا حل نہیں تو براہ کرم، اس کا کوئی حلال طریقہ بتادیں۔ جزاک اللہ

Published on: Oct 3, 2018

جواب # 164377

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1254-1182/N=1/1440



آن لائن فاریکس ٹریڈنگ کے ناجائز ہونے کی وجہ صرف یہ نہیں ہے کہ اس میں قبضہ کے بغیر کرنسی کی خرید وفروخت ہوتی ہے؛ بلکہ اس میں دوسرے عاقد (معاملہ کار) اور مبیع کے وجود وغیرہ کا بھی کچھ علم نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے اس کا قوی شبہ ہوتا ہے کہ یہ کہیں کمپنی (دلال)ہی ہیرا پھیری نہ ہو؛ اس لیے جب تک آن لائن فاریکس ٹریڈنگ میں بائع اور مبیع کا حقیقی وجود وغیرہ معلوم نہ ہوجائے اور جواز کے لیے بیع کی دیگر تمام شرطیں نہ پائی جائیں، اسے جائز نہیں کہا جاسکتا۔ اور اگر ان سب باتوں کی تحقیق ممکن نہ ہو تو ضروری نہیں کہ آن فاریکس ٹریڈنگ ہی کی جائے؛ بلکہ کاروبار کے دوسرے جائز اور بے غبار طریقے اختیار کیے جائیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات