india

سوال # 160565

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید نے ایک کمپنی ایجاد کی اس کمپنی کا کام یہ ہے کہ اگر کوئی بھی اس کمپنی میں کام کرنا چاہتا ہے تو وہ کمپنی اس سے سات ہزار روپے لیا کرتی ہے اس کے بعد وہ کمپنی اس کو یہ کام دیتی ہے کہ آپ کو ہماری کمپنی کا پرچار کرنا ہے یعنی لوگوں کو اس کمپنی سے اسی طرح جوڑنا ہے جس طرح آپ سات ہزار روپے دیکر جڑے ہو اگر آپ یہ کام کروگے تو یہ کمپنی آپ کو دو آدمی جوڑنے کے ایک ہزار روپے دے گی اسی طریقہ سے جتنے زیادہ لوگوں کو اس کمپنی سے جوڑوگے اتنے ہی زیادہ پیسے ملیں گے اور اگر یہ کام نہیں کیا تو کمپنی آپ کو کچھ بھی نہیں دے گی اور وہ سات ہزار رپے بھی آپ کو واپس نہیں ملیں گے اور میں اس کی بھی وضاحت کردوں کہ جو سات ہزار رپے وہ کمپنی لوگوں سے وصول کرتی ہے وہ ان کا جائز کاروبار میں استعمال کرکے جو منافع ہوتا ہے وہ ہی پیسا کام کرنے والے لوگوں کو دیتی ہے تو کیا یہ طریقہ اور اسے کمایا جانے والا پیسا حلال ہے یا نہیں مدلل و مفصل جواب تحریر فرمادیں۔

Published on: May 12, 2018

جواب # 160565

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa : 892-752/SN=8/1439
(الف) آپ نے کمپنی کا جو طریقہٴ کار تحریر کیا ہے، یہ نیٹ وَرک مارکیٹنگ کا طریقہٴ کار ہے، اس طریقہٴ کار میں غیر متعلقہ چیزوں کو معاملے کے ساتھ مشروط کرنا، متعدد معاملات کو ایک ساتھ خلط ملط کرنا اور جہالت وغیرہ جیسی شرعی قباحتیں پائی جاتی ہیں؛ اس لئے اس طرح کی کمپنیوں کے ساتھ جڑ کر کام کرنا شرعاً درست نہیں ہے؛ لہٰذا آپ مذکور فی السوال کمپنی کے ساتھ مربوط ہوکر کام نہ کریں۔
(ب) کمپنی کا سات ہزار روپئے وصول کرکے کام دینا، اسی طرح کام نہ کرنے کی صورت میں اس رقم کو رکھ لینا شرعاً جائز نہیں ہے؛ اس لئے بھی اس کمپنی سے جڑ کر نفع کمانا درست نہیں ۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات