India

سوال # 155247

حضرت، میرا سوال یہ ہے کہ کیا کسی ایسی کمپنی کی پالیسی میں پیسے کاروباری مفاد (interest) کے لیے لگانا درست ہے جو یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ ہمارا پیسہ اپنے تجارت میں اور جیسے دوائیوں اور کھیتی وغیرہ میں لگاتی ہے اس سے جو منافع آتا ہے اس میں سے کچھ ہمیں ملتا ہے اور کچھ کمپنی کاہوتا ہے۔
طریقہ کار کمپنی کا کچھ یوں ہے کہ میں نے سال بھر کا پلان لیا تو مجھے ہر مہینے پیسے دینے ہوں گے مثلاً میں نے ۲۰/ روپئے مہینہ دیا تو سال کے ۲۴۰/ ہوئے، لیکن اب کمپنی مجھے ۳۵۰/ دے گی۔
دوسرا طریقہ بھی ہے: وہ یہ کہ میں نے ایک سال کا پلان لیا اور میں نے ایک سال کے پیسے ۲۴۰/ روپئے ایک ہی بار میں بھر دیا، اب کمپنی مجھے ہر مہینے ۱۵/ روپئے تین سال تک دے رہی ہے، اسی طرف لاکھوں کی پالیسی ہے ۔
مہربانی کرکے اس کا تسلی بخش جواب دیں۔

Published on: Nov 11, 2017

جواب # 155247

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 65-134/SN=2/1439



کسی کمپنی میں سرمایہ کاری کے لیے پیسے دے کر اس سے طے شدہ اور متعین نفع لینا شرعاً جائز نہیں ہے، یہ ”سودی معاملہ“ کہلائے گا اگرچہ کمپنی کا کام شرعاً جائز اور مباح ہو، لہٰذا مذکور فی السوال دونوں طریقوں میں سے کسی ایک کے مطابق بھی پیسہ لگانا درست نہیں۔ سرمایہ کاری کے لیے پیسہ شرکت یا مضاربت کے معاہدے کے تحت دینا چاہئے شرکت میں دونوں کا سرمایہ ہوتا ہے اور یہ طے ہوتا ہے کہ کاروبار میں جتنا نفع ہوگا، اس کا اتنا فیصد فلاں کو اور اتنا فیصد فلاں کو ملے گا، اگر کاروربار میں خسارہ ہوا تو بہ قدر سرمایہ ہر ایک شریک برداشت کرے گا۔ اور مضاربت یہ ہے کہ ایک آدمی کا مال ہو اور دوسرے کی محنت، محنت (کاروبار) کرنے والے کو تجارت سے جو کچھ نفع ہوگا، اس نفع کو فیصد (حصہٴ شائعہ) کے طور پر باہم تقسیم کر لیا جائے مثلاً آدھا آدھا یا کم و بیش، اگر نقصان ہوا تو پیسہ دینے والے کا پیسہ جائے گا، اور محنت کرنے والے کی محنت جائے گا۔ شرکت و مضاربت کے سلسلے میں مزید شرائط اور تفصیلات ہوں، جب اس طرح کاروبار / سرمایہ کاری کا ارادہ ہو تو معتبر مفتیان سے تفصیلات بتلاکر حکم معلوم کر لیا جائے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات