India

سوال # 145493

کموڈیٹی ٹریڈنگ میں کیا انٹراڈے ٹریڈنگ (جیسے ہم تیل، سونا، چاندی، دھات صبح خرید یں شام کو ضرور بیچ دیں) حلال ہے؟مارکیٹ ریٹ کی بنیاد پر نفع و نقصان کا اعتبار ہوتاہے، نیز لین دین حسی نہیں ہوتاہے۔

Published on: Jan 4, 2017

جواب # 145493

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 95-219/N=4/1438



 



کموڈیٹی ٹریڈنگ میں جو انٹرڈے ٹریڈنگ ہوتی ہے، اس میں چوں کہ عام طور پر اشیا کی خرید وفروخت شرعی قبضہ کے بغیر ہوتی ہے، نیز اس میں مبیع کا موجود، بائع کی ملکیت وقبضہ میں ہونا اور اس کا معلوم ومتعین وغیرہ ہونا ضروری نہیں ہوتا؛ جب کہ شریعت اسلامیہ کی رو سے تیل، سونا، چاندی وغیرہ کی خرید وفروخت میں ان سب چیزوں کی رعایت ضروری ہوتی ہے؛ اس لیے خرید وفروخت کا یہ طریقہ شرعاً درست نہیں، اس میں سٹہ بازی کا پہلو پایا جاتا ہے۔ وشرط المعقود علیہ ستة: کونہ موجودًا مالا متقوماً مملوکًا في نفسہ وکون الملک للبائع فیما یبیعہ لنفسہ،․․․․․․، فلم ینعقد بیع المعدوم،․․․․․․․ ، ولا بیع ما لیس مملوکا لہ وإن ملکہ بعدہ، الخ، ․․․․․ ․ وأما الثالث وہو شرائط الصحة فخمسة وعشرون، منہا عامة ومنہا خاصّة، فالعامّة لکل بیع: شروط الانعقاد المارة؛ لأن ما لا ینعقد لا یصح، وعدم التوقیت ومعلومیة المبیع ومعلومیة الثمن بما یرفع المنازعة فلا یصح بیع شاة من ہذا القطیع، ․․․․․ ، نعم یزاد في شروط المعقود علیہ إذا لم یریاہ الإشارة إلیہ أو إلی مکانہ (رد المحتار ۷: ۱۵، ۱۶، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، والذي یظہر من کلامہم تفریعًا وتعلیلاً أن المراد بمعرفة القدر والوصف ما ینفي الجہالة الفاحشة وذلک بما یخصص المبیع عن أنظارہ وذلک بالإشارة إلیہ لو حاضرًا في مجلس العقد وإلا فبیان مقدارہ مع بیان وصفہ لو من المقدرات کبعتک کر حنطة بلدیة مثلاً بشرط کونہ في ملکہ أو ببیان مکانہ الخاص الخ (رد المحتار ۷: ۵۱)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات