India

سوال # 11868

شیئر مارکیٹ میں انٹرا ڈے ٹرانزیکشن کے بارے میں قبضہ کا معاملہ: آپ کہتے ہیں کہ اگرخریدنے والے کوضمان متتقل ہوجائے گا ، تو اس وقت اس کی اجازت ہے۔ یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اگر کسی نے ایک مرتبہ ریٹ لگا دیا ہے جس پر وہ خریدنا چاہتا ہے او راس ریٹ اس کے حق چلا گیا خواہ وہ ڈلیوری (تسلیم مبیع) لے یا نہ لے ، یہ(اس کے کھاتہ میں) خود بخود پہنچ جائے گا اور ڈلیوری کے مطابق دلالی کا چارج ل لگ جائے گا ۔ براہ کرم، رہ نمائی فرمائیں۔

Published on: Apr 15, 2009

جواب # 11868

بسم الله الرحمن الرحيم

فتویٰ: 565=406/ل


 


قبضہ کی دو قسمیں ہیں: (۱) حسی قبضہ۔ (۲) معنوی قبضہ، حسی قبضہ تو ظاہر ہے کہ وہ چیز آدمی کے قبضہ میں آجائے اور وہ جس طرح چاہے اس میں کرسکے، معنوی قبضہ یہ ہے کہ مبیع حقیقةً قبضے میں نہ آئے لیکن اس کا رسک (ضمان) خریدنے والے کی طرف منتقل ہوجائے، یعنی اگر اس کے بعد نفع ہو تو بھی خریدار ہی کے ضمان میں ہو اور نقصان ہو تو بھی اس کا ہو، پس اگر شیئرز خریدنے کے بعد شیئرز پر معنوی قبضہ بھی ہوجائے تو بھی اس کے لیے اس کو آگے فروخت کرنا جائز ہوگا اور یہ شکل بیع قبل القبض کو شامل نہیں ہوگی جس کی ممانعت حدیث میں مذکور ہے۔


قبضہ کی تعریف سمجھنے کے بعد آپ خود ہی فیصلہ کرسکتے ہیں کہ بیع قبل القبض ہے یا نہیں؟ واضح رہے کہ شیئرز کی خرید وفروخت کے لیے اور کئی شرطیں ہیں جن کا ذکر فقہی مقالات میں تفصیل موجود ہے، اس لیے مناسب یہ ہے کہ شیئرز کی خرید فروخت سے پہلے اس کا بار بار مطالعہ کرلیا جائے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات