عبادات - صوم (روزہ )

India

سوال # 8241

میں نے کلاس آٹھ سے مشت زنی کرنا شروع کردیا تھا مجھے نہیں پتہ تھا کہ یہ غلط ہے۔ پھر میں نے حتی کہ روزہ کی حالت میں بھی یہ گناہ کیا مگر مجھے نہیں پتہ تھا کہ کیا ہو رہا ہے بس مجھے تو ایک مزہ آتا تھا۔ پھر کچھ عرصہ بعد دل کو عجیب بے چینی ہوئی اس کی وجہ سے تو لگا کہ شائد یہ غلط کام ہے۔ پھر اللہ نے چھوڑوادیا مگر پھر دوبارہ بھی ایک دو بار کیا مگر نہ جانے کیوں طبیعت میں ڈر پیدا ہونے لگا۔ پھر اب جب کہ میری عمر بائیس سال ہو چکی ہے تو پتہ چلا کہ وہ گناہ تھا․․․ اب ایسی حالت میں جو میں نے روزہ میں مشت زنی کی اس کا کیاہوگا؟ کیا کفارہ ہوگا؟ قضا رکھنی ہوگی؟ کتنی قضا رکھنی ہوگی؟

Published on: Oct 25, 2008

جواب # 8241

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 1777=1673/د


 


مذکورہ عمل گناہ کبیرہ ہے، ہوس رانی کا شیطانی طریقہ ہے، اس سے بالکلیہ احتراز کریں۔ برے اورگندے خیالات سے اپنے کو محفوظ رکھیں، بدنگاہی اور شہوانی چیزوں کو دیکھنے سے نگاہ کی حفاظت کریں۔ اس عمل بد کا خیال پیدا ہو تو بالقصد دوسرے کام میں اپنے کو مصروف کرلیں، دھیان ادھر سے ہٹادیں، اور اللہ تعالیٰ سے گذشتہ اعمال کے لیے توبہ واستغفار کریں۔ اللہ تعالیٰ آئندہ آپ کو اس سے محفوظ رکھے۔

روزہ کی حالت میں جو اس عمل بد کا ارتکاب ہوا ہے، اس سے روزہ فاسد ہوگیا، اتنے روزوں کی صرف قضا رکھنا آپ پر واجب ہے، کفارہ واجب نہیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات