عبادات - صوم (روزہ )

United Kingdom

سوال # 7230

میری بیوی اپنے حمل کے ابتدائی ایام میں ہے۔ لندن میں اس وقت روزہ کا گھنٹہ بہت طویل ہوتا ہے۔مجھے خوف ہے کہ یہ میری بیوی کے حمل پر اثرا نداز ہوگا اور ہوسکتا ہے کہ یہ حمل کے ضائع ہونے کا سبب بن جائے۔ کیا اس کے لیے رمضان کے مہینہ کے روزوں کو چھوڑنا جائز ہے، اور اس کی بعد میں قضا کرنا جائز ہے؟

Published on: Sep 2, 2008

جواب # 7230

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 1067=933/ ل


 


حاملہ عورت اگر روزہ رکھے تو حمل کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو، اس کے لیے روزہ چھوڑنے کے شرعاً اجازت ہے تاہم بہتر یہ ہے کہ آپ کسی مسلمان ڈاکٹر سے مشورہ کرلیں اور وہ اگر آپ کے قول کی تصدیق کردے تو آپ کی بیوی روزہ چھوڑکر دوسرے ایام میں اس کی قضاء کرسکتی ہے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات