عبادات - صوم (روزہ )

Pakistan

سوال # 7156

ایک دفعہ ٹی وی پر ایک پروگرام میں ڈاکٹر ذاکر سے کسی نے سوال کیا کہ کیا کوئی شخص روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کو بوسہلیسکتا ہے؟ تو ڈاکٹر ذاکر نائک نے اس کو جواب دیا کہ اگر کسی شخص کو اپنے اوپر کنٹرول ہے اور بات صرف بوسہ تک ہی ہے تو بوسہ لے سکتا ہے۔ اور ساتھ میں ڈاکٹر ذاکرنائک نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے ایک مثال بھی دی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک دفعہ روزہ کی حالت میں اپنی ایک زوجہ مطہرہ( رضی اللہ تعالی عنہا) کو بوسہ فرمایا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہے تو:


(۱) اگر کوئی شخص بوسہ لے اور شہوت سے اس کو قطرے آجائیں توکیا روزہ باقی رہے گا؟


 (۲) اوراگر بوسہ کے بعد بات بڑھ جائے اور اپنے اوپر کنٹرول نہ رہے اور مباشرت ہوجائے تو کیا ایسی صورت میں گناہ ہوگا؟


برائے کرم جلد جواب عنایت فرماویں کیوں کہ رمضان قریب آرہا ہے اور چند دنوں پہلے میں نے شادی کی ہے اور میں اپنی بیوی سے بہت زیادہ محبت کرتا ہوں۔ میری عمر پچیس سال ہے اور میری بیوی کی عمر چوبیس سال ہے۔

Published on: Sep 2, 2008

جواب # 7156

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 1037=920/ ل


 


(۱) بوس وکنار کی وجہ سے جو پانی نکلتا ہے اس کو مذی کہتے ہیں جس سے بدن میں فتور (سستی) پیدا نہیں ہوتا، اس سے روزہ میں کوئی نقصان نہیں آتا البتہ اگر منی نکل آئے جس سے بدن میں فتور (سستی) پیدا ہوجاتا ہے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔


(۲) ایسی صورت میں تو روزہ ٹوٹے گاہی کفارہ بھی دینا پڑے گا یعنی ایک روزہ قضاء کا اور ساٹھ روزے کفارہ کے رکھنے ہوں گے، اور اگر اس کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو دونوں وقت کھانا کھلانا ہوگا۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات