عبادات - صوم (روزہ )

India

سوال # 69347

ایک شخص کی عمر پچاسی سال کے قریب ہے اس کی عقل کام نہیں کرتی نماز روزہ تو دور نجاست تک کی تمیز نہیں کرپاتا کیا ایسے شخص کے لیے نماز روزہ کے فدیہ کا حکم ہے یا اس سے نماز روزہ ساقط ہوجائیں گے۔

Published on: Aug 7, 2016

جواب # 69347

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 1137-1149/N=11-1437

اللہ تعالی نے انسان کو احکام شرع کا جو مکلف بنایا ہے، اس کی بنیاد دو چیزیں ہیں؛ ایک: عقل، دوسرے بلوغ، پس جب تک آدمی کے پاس عقل رہے مکلف رہتا ہے اور جب آدمی کی عقل کام کرنا بند کردے یعنی: اس کی عقل میں اس درجہ خلل آجائے کہ اس کے اندر نفع نقصان سمجھنے کی صلاحیت نہ رہے تو ایسی صورت میں وہ مکلف بھی نہیں رہتا، پس سوال میں مذکور شخص کی عقل نے اگر پیرانہ سالی اور درازی عمر کی وجہ سے کام کرنا بند کردیا ہے اور یہ شخص نماز روزہ تو دور کی بات نجاست وغیرہ کی بھی تمیز نہیں کرپاتا ہے توایسی صورت میں یہ شخص شریعت کی نظر میں مرفوع القلم ہے، یعنی: اس کے ذمہ نماز، روزہ وغیرہ کچھ واجب نہیں؛ لہٰذا اس حالت میں یہ شخص جو نماز روزہ وغیرہ نہیں کرے گا ، ان کے فدیہ وغیرہ کی بھی کچھ ضرورت نہیں، وأما العتہ بعد البلوغ فمثل الصبا مع العقل في کل الأحکام، ……… ویو ضع عنہ الخطاب کما یوضع عن الصبي (الحسامي مع النظامي، ص ۱۴۴) ، فلا یجب علیہ العبادات ولا یثبت في حقہ العقوبات کما في حق الصبي الخ (النامي ص ۲۸۵) وانظر غایة التحقیق شرح الحسامي (ص ۳۰۱) أیضاً۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات