عبادات - صوم (روزہ )

India

سوال # 6238

میرا سوال اپنے ہی محلہ میں جہاں آدمی رہتا ہے وہاں رویت ہلال کے متعلق ہے۔ جیسا کہ میں نے حال ہی میں ایک فتوی دیکھا جو کہ آپ کی طرف سے صادر ہوا ہے جس یہ مذکور ہے کہ انگلینڈ کے مسلم بھائیوں کو ساؤتھ افریقہ کی اقتدا کرنی چاہیے۔ اس بات کے ساتھ میری پریشانی یہ ہے کہ میں ساؤتھ افریقہ میں نہیں رہتا ہوں اس لیے یہ جملہ ?چاند دیکھ کر روزہ شروع کرو? میرے لیے بہت باموقع بن جاتا ہے۔ اور 1986تک ہمارے محلہ کے مسلمان رویت ہلال جہاں ہم رہتے ہیں وہاں کی اختیار کرتے تھے، جو کہ بولسٹن میں ہے۔ نیز میں یہ بھی یقین رکھتا ہوں کہ حضرت جی رحمة اللہ علیہ نے مسلم بھائیوں کو اپنے ہی محلہ میں چاند دیکھنے کا مشورہ دینے کافتوی جاری کیا تھا (یہ مون سائٹ ڈاٹ کام پر اردو اور انگریزی میں دستیاب ہے) ۔چوں کہ یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نیز آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کا معمول اور سنت تھی۔ اب لوگوں کی رایوں اور اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے رویت ہلال کے اس مسئلہ نے صرف میرے شہر ہی کے مسلمانوں کو نہیں ،بلکہ پورے انگلینڈ کے مسلمانوں کو جدا کردیا ہے۔ہم ایسی حالت میں ہیں جس میں والد اپنے لڑکوں اور بیویوں سے علحدہ دنوں میں روزہ رکھ رہے ہیں۔اب میں نے اپنی محدود سمجھ اورعام مسلمان ہونے کے ناطے یہ نظریہ اختیار کیا ہے کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ ہمیں اپنے محلہ کی رویت ہلال کو اختیار کرنا چاہیے،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملہ کے لیے ساؤتھ افریقہ، موروکو، عربیہ یا کوئی او رجگہ مراد نہیں لی۔چونکہ جہاں میں رہتا ہوں صرف وہاں ہی سے میں چاند صاف دیکھ سکتا ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ نے جہاں آپ رہتے ہیں وہ جگہ مراد لی۔بلا شبہ ایک صحابہ کے بارے میں ایک مشہور واقعہ ہے، جنھوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جب رمضان شروع ہواتو دمشق کا سفر کیا، اپنی واپسی پر انھوں یہ معلوم ہوا کہ یہاں مدینہ کے لوگوں کے مقابل ایک دن کا فرق تھا، لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو زمین کی دوری اور گولائی کی وجہ سے صحیح قرار دیا،کیوں کہ متفقہ طور پر پچاس سے پچہتر کلومیٹر کی مختصردوری کے بعد چاند دیکھنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کم از کم مقدار ہے جس کو ایک شخص دوسرے شہروں اور قصبوں سے چاند دیکھنے کے لیے قبول کرسکتا ہے جیسا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال سے نتیجہ نکالا گیا ہے۔ تو آپ لندن کے لوگوں کو ساؤتھ افریقہ کی اقتدا کرنے کو کیوں کہتے ہیں؟ اگر میں لندن میں بادل کی وجہ سے چاند نہیں دیکھ سکتا ہوں تو میں تیس دن مکمل کرنے کے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسرے ہدایات پر عمل کرسکتا ہوں اور اس کے اپنے رمضان کی ابتدااور اختتام کرسکتا ہوں۔ اللہ تبارک و تعالی کی طرف سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت آسان طریقہ عطا کیا گیا تھا۔ اور آپ اپنے فتوی کے اخیر میں کہتے ہیں کہ ?اللہ بہتر جانتا ہے? جس پر میں مکمل طور پراتفاق کرتا ہوں، تو ہم اس فارمولہ پر کیوں نہیں عمل کرتے ہیں جواللہ تعالی نے ہمیں عطا کیا ہے؟ رویت ہلال کھلی آنکھوں سے اپنی اقامت کی جگہ میں اس دوری پر محدود ہے جس دوری پر چاند دیکھنا زمین کی گولائی کی وجہ سے متاثر ہوجاتا ہے۔اس لیے جب کم از کم پچاس سے پچہتر کلومیٹر کی دوری حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قابل قبول تھی، تو یہ کیوں اور کس کی اجازت سے تبدیل کردیا گیا ہے؟ اس مسئلہ نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو جدا کردیا ہے جب کہ اس کا سادہ جواب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال کی اقتدا کرناہے۔

Published on: Sep 8, 2008

جواب # 6238

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 1589=1415/ ل


 


اصل مسئلہ یہ ہے کہ: صُوْمُوْ لرُوٴیتہ وأَفْطِرُوا لرُوٴیَتہ فإن غم علیکم الہلال فاقدروا ثلاثین، یعنی چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور چاند دیکھ کر ہی عید مناوٴ، اگر کسی وجہ سے چاند نظر نہ آئے تو مہینہ کے تیس دن پورے کرو۔ لیکن چاند نظر نہ آنے کی صورت میں کسی دوسرے مقام سے چاند کی خبر آئے تو اگر بطریق موجب شہادت آئے یعنی دو عادل مرد شہادت بالروٴیة، یا شہادت علی الشہادة دیں یا شہادت علی حکم الحاکم دیں، یا بذریعہ استفاضہ خبر آجائے تو ان کی شہادت کا ماننا اور اس پر عمل کرنا جائز ہے۔ اتنے دور مقام کی خبر تسلیم کرلینا جائز ہے کہ اس سے ہمارے یہاں کا مہینہ ۲۸/ دن کا یا ۳۱ دن کا لازم نہ آئے۔ اس میں کلومیٹر کی تحدید نہیں ہے۔ جو واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آپ نے تحریر فرمایا وہ کسی حدیث کی کتاب میں ہمیں نہیں ملا۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات