عبادات - صوم (روزہ )

India

سوال # 2140

(۱) کیا ماہ رمضان میں ہم کسی مسجد یا کسی کھلی جگہ یا کسی عبادت گاہ میں نماز تراویح ادا کرسکتے ہیں؟اگر پردہ کا نظم ہو تو کیا عورتیں بھی مردوں کے ساتھ باجماعت نماز تراویح میں شریک ہوسکتی ہیں یا نہیں؟

(۲) اگر حافظ قرآن تراویح کسی گھر میں پڑھانا چاہیں اور اس گھر کے علاوہ کے لوگ اس میں شریک ہوں ، کیا اس کی اجازت ہے؟نیز، کیا اس گھر اور دوسرے گھروں کی عورتیں جماعت تراویح میں شریک ہوسکتی ہیں؟

(۳) روزآنہ پانچ یا تین یا دو پاروں کی تراویح جائز ہے یا نہیں؟
(۴) ایک ہی مسجد میں مختلف پاروں کی دو مختلف منزلہ پر دو تراویح جائز ہے؟

Published on: Mar 18, 2017

جواب # 2140

بسم الله الرحمن الرحيم


فتوی: 1629/ ھ= 1291/ ھ



 



(۱) مردوں کے حق میں مسجد تو اصالةً عبادت کی جگہ ہے ہی دیگر کس عبادت گاہ کا حکم معلوم کرنا چاہتے ہیں؟ عورتوں کو مسجد میں آنا ممنوع ہے، ان کو فرض، تراویح، وتر اپنے اپنے گھروں میں اداء کرنے کا حکم ہے اسی میں ان کو زیادہ ثواب بھی ہے، اگر کچھ مرد مسجد میں فرض پڑھ کر کسی مکان میں تراویح پڑھ لیں اور مسجد کی جماعتِ تراویح معطل نہ ہو یا بہت زیادہ تقلیل نہ ہوجائے تو گنجائش ہے اور جب شوہر یا محرم ان مردوں میں ہوں کہ جو مکان میں تراویح ادا کریں اوران کے پیچھے باقاعدہ پردہ کا انتظام کرکے گھر کی عورتیں بھی اقتداء تراویح کرلیں تواس میں بھی گنجائش ہے۔



(۲) اس گھر یا دوسرے گھر کے افراد یعنی حافظ صاحب اور مرد نمازی، فرض نماز مسجد میں ادا کرکے تراویح گھر میں پڑھ لیں اور گھر کی عورتیں شریک ہوجائیں تو گنجائش ہے، جیسا کہ تفصیل نمبر (۱) میں لکھ دی۔ دوسرے مکانوں سے عورتوں کا آنا ممنوع ہے۔



(۳) تین یا دو پاروں کو بشاشت سے سن لیں اور مفاسد و خرابی کا اندیشہ نہ ہو تو ترتیل و تجوید کی رعایت کرکے پڑھا جائے توجائز ہے، پانچ پاروں میں اگر ان سب امور کی رعایت ہوجائے تو ان کی بھی اجازت ہے، ورنہ نہیں۔



(۴) فرض نماز سب ساتھ پڑھیں اور دوسری منزل پر تراویح کی جماعت دوسری کرلیں تو گنجائش ہے مگر بہتر یہی ہے کہ ایک مسجد کی مختلف منزلوں میں تراویح کی جماعتیں متعدد نہ ہوں، بلکہ ایک ہی جماعت قائم کی جائے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات