عبادات - صوم (روزہ )

India

سوال # 171450

تراویح میں جب قرآن پڑھتا ہوں تو بھول سے کبھی کبھی کچھ آیات چھوٹ جاتے ہیں توکیا وہ آیات جو کہ کئی جگہ سے چھوٹا تھا اس کو اگلے دن کب اور کیسے پڑھنا چاہیے جس سے قرآن ناقص نہ رہے ۔ علما س سے سنا ہے کہ نماز کے دوران اگر کوئی آیت چھوٹ جائے تو یا بھول جاں نے پر اگر دوسری جگہ سے پڑھتا ہے تو اس بات کا خیال رکھنا پڑتا ہے کے مو ضوع ایک دوسرے ک خلاف تو نہیں ہے مثلاً ایک جگہ جنّت اور دوسری جگہ جہنّم کا ذکر آ رہا ہو تو نماز م خرابی آ جاتی ہے ۔ جنّت ۔جہنّم کا ذکر تو خیر عالِم جانتے ہے لیکن جو صرف حافظ اس کو تو قرآن کا ترجمہ نہیں آتا اس کے لئے ان چھوٹی آیت کا کیا رہے گا؟ براہ کرم، رہنمائی فرما ئیں ۔

Published on: May 21, 2019

جواب # 171450

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1036-872/L=9/1440



چھوٹی ہوئی آیات کودوسرے دن اسی ترتیب سے پڑھ لینے میں مضائقہ نہیں ان شاء اللہ مکمل قرآن کا ثواب مل جائے گا ،اور چونکہ ان آیات کی تلاوت کے وقت ہر دو آیت کے درمیان امام وقفہ کرلیتا ہے ؛اس لیے مضمون کا ایک دوسرے کے موافق نہ ہونا مضر نہ ہوگا ۔



وإذا غلط فی القراء ة فی التراویح فترک سورة أو آیة وقرأ ما بعدہا فالمستحب لہ أن یقرأ المتروکة ثم المقروء ة لیکون علی الترتیب، کذا فی فتاوی قاضی خان.(الفتاوی الہندیة 1/ 118)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات