عبادات - صوم (روزہ )

India

سوال # 170452

ہمارے یہاں حیدرآباد میں ایک مسجد ہے جس میں رمضان میں نماز تراویح میں مسجد کے اندر روزانہ ایک پارہ پڑھا جاتا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ مسجد کی تیسری منزل پر دو دہے کا انتظام کیا جاتا ہے یعنی روزانہ تین پارے ۔ یہ معمول کئی برسوں سے جاری ہے ۔ لیکن محلہ کے چند علماء اس کے قائل نہیں ہیں کہتے ہیں کہ یہ جائز نہیں ہے ایک مسجد میں بیک وقت دو تراویح۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں۔ اس مسجد کے تحت حفظ کا مدرسہ بھی ہے ۔چونکہ مدرسہ کے طلباء کو قرآن سنانے کے لیے مساجد ناکافی ہیں۔اس لیے مسجد میں اگر دو تراویح بیک وقت بغیر کسی آوا ز کے خلل کے ہوں تو کیا اس کی کوئی گنجائش نکل سکتی ہے ۔
براہ کرم اپنے فتویٰ سے جلد از جلد آگاہ فرمائیں تو نوازش ہوگی۔

Published on: May 21, 2019

جواب # 170452

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:996-865/L=9/1440



ایک مسجدمیں اگر تراویح کی اوپر نیچے دوجماعت ہو اوردونوں کی آوازباہم نہ ٹکرائے تو بعض حضرات ِ اکابر نے اس طور پر دوجماعت کی گنجائش ہے؛ تاہم مکروہِ تنزیہی ضرورہے؛اس لیے بہتر شکل یہی ہے کہ مسجد میں عشا کی نماز کے بعد تراویح کی دوسری جماعت خارجِ مسجد کسی بڑے کمرے یا ہال وغیرہ میں ادا کی جائے،سخت مجبوری کی صورت میں ہی جبکہ دوسری جگہ تراویح کی جماعت کا نظم نہ ہوسکے مسجد میں دوسری جماعت کی جائے،اور شرطِ مذکور کا خیال رکھا جائے ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات