عبادات - صوم (روزہ )

Pakistan

سوال # 167549

محترم صاحب روزوں کے کفاروں کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں ، مجھے پتاہے کہ ایک رمضان کے روزوں کے کفارے کا ساٹھ روزوں کو مسلسل رکھنا ہے ، لیکن موجودہ وقت میں سکول میں استاد ہوں،میرا سکول مجھ سے 43 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔ جوکہ روزانہ میں اتا جاتا ہوں۔تو یقیناً مجھے تکلیف ہوگی کہ سارا دن لگاتار روزہ اور سکول بھی اتنا دور ۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا میں ساٹھ مسکینوں کو فدیہ کے طور پر کفارہ ادا کرسکتاہوں؟ یا نہیں ساٹھ روزوں کو مسلسل رکھوں گا۔ اس کے ساتھ ہی میرا مسلئہ یہ بھی ہے کہ کبھی کبھی دانتوں سے خون اتا ہے ،مجھے پتہ نہیں ہوتا؟ برائے کرم رہنمائی کرے ۔شکریہ

Published on: Jan 3, 2019

جواب # 167549

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:347-295/sd=4/1440



اگر آپ پر روزے کا کفارہ واجب ہے ، تو آپ پر دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنا ضروری ہیں، سال کے جو ایام چھوٹے ہوتے ہوں، اُن میں روزہ رکھ لیں ، تھوڑی بہت مشقت کی وجہ سے کفارہ میں ساٹھ روزے رکھنے کا شرعی حکم ساقط نہیں ہوگا ؛ البتہ اگر ساٹھ روزے ایک ساتھ رکھنے کی بالکل استطاعت نہ ہو، بڑھاپے کی وجہ سے یا کسی ایسی بیمای کی وجہ سے جس سے شفا یابی کی امید نہ ہو،تو ساٹھ مسکینوں کو دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلادینا یا ساٹھ مسکینوں میں سے ہر ایک کو صدقہ فطر کے بقدر گیہوں (یعنی: ایک کلو /۶۳۳گرام گیہوں) یا اس کی قیمت دینے سے کفارہ اداء ہوجائے گا۔ فإن عجز عن الصوم لمرض لا یرجی بروہ أو کبر أطعم أی: ملک ستین مسکیناً … کالفطرة قدراً ومصرفاً ۰و قیمة ذلک من غیر المنصوص…وإن أراد الإباحة فغداھم وعشاھم أو غداھم وعشاھم قیمة العشاء أو عکسہ … وأشبعھم جاز (الدر المختار مع رد المحتار ،کتاب الطلاق، باب الظھار، فصل فی الکفارة، ۵: ۱۴۳، ۱۴۴)



(۲) دانتوں سے اگر اتنا خون نکلے کہ تھوک پر غالب آجائے ، یعنی تھوک سرخ ہوجائے ، تو اس سے وضوء ٹوٹ جائے گا اور اگر تھوک غالب رہے ، تو وضوء نہیں ٹوٹے گا، آ پ نماز سے پہلے وضوء کرتے ہوئے مسواک کیا کریں اور خوب اچھی طرح دانتوں کو صاف کرلیا کریں ، شک و شبہہ میں نہ پڑیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات