عبادات - صوم (روزہ )

syria

سوال # 164102

کیا اعتکاف کی حالت میں بغیر شرعی عذر کے کچھ بچھاکر نہا سکتے ہیں؟ مسجد میں ہیں لیکن پانی مسجد سے باہر ہوتا ہے۔ اب یہ بتائیں کہ یہ درست ہے؟ اعتکاف کی حالت میں خانہ کعبہ اور مسجد نبوی میں بھی نہانے کی کیا ترتیب ہے ؟

Published on: Oct 9, 2018

جواب # 164102

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1229-1201/N=1/1440



(۱): صرف مسجد کا فرش ہی شرعاً مسجد نہیں ہوتا؛ بلکہ فرش اور چھت کے درمیان کا خلا بھی مسجد ہوتا ہے اور اس کے لیے بھی وہی آداب ہیں جو مسجد کے فرش کے لیے ہیں؛ اس لیے اگر مسجد کے فرش پر کچھ بچھاکر غسل کیا جائے گا تو یہ مسجد ہی میں غسل کرنا ہوگا اور جسم کا میل کچیل اور دھوون پہلے مسجد ہی میں گرے گا اگرچہ تھوڑی دیر کے لیے ہو؛ اس لیے معتکف کو مسجد میں پلاسٹک وغیرہ بچھاکر بھی نہیں نہانا چاہیے؛ تاکہ مسجد کی بے احترامی لازم نہ آئے؛ البتہ اگر گرمی کی شدت ناقابل برداشت ہو تو معتکف اپنے جسم پر بھیگا تولیہ پھیرلے یا جب استنجا کے لیے جائے تو استنجے سے فارغ ہوکر جلد از جلد ۲، ۴/ لوٹے ڈال کر آجائے۔



کرہ تحریماً …البول والتغوط فیہ؛ لأنہ مسجد إلی عنان السماء (الدر المختار مع رد المحتار،کتاب الصلاة باب ما یفسد الصلاة وما یکرہ فیھا ۲:۴۲۸، ط: مکتبة زکریا دیوبند)،قولہ : ” إلی عنان السماء “ : بفتح العین، وکذا إلی تحت الثری کما فی البیري عن الإسبیجابي(رد المحتار)۔



(۲): معتکف کے غسل کے مسئلہ میں مسجد حرام یا مسجد نبوی کا بھی وہی حکم ہے جو اوپر عام مساجد کا ذکر کیا گیا ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات