عبادات - صوم (روزہ )

Pakistan

سوال # 163874

کیا اجتماعی اعتکاف کا انعقاد کرنا جیسا کہ آجکل اکثر صوفیہ کرتے ہیں اور اس میں دوردراز علاقوں سے شرکت کرنے کے لئے ان کے مریدین یا عام لوگ آتے ہیں اس کی شرعی حیثیت کیا ہے ۔اور اس میں تداعی کے ساتھ نوافل ادا کئے جاتے ہیں اس کی شرعی حیثیت کیا ہے اور اپنے محلے کو چھوڑ کر اعتکاف کے لئے سفر کرنے کا کیا حکم ہے ؟ بینوا توجروا

Published on: Sep 19, 2018

جواب # 163874

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1165-978/SN=1/1440



اگر کوئی متبع سنت شیخ اپنے مریدین اور متعلقین کے ساتھ ماہ رمضان میں کسی جگہ مجتمع ہو جائیں؛ تاکہ اعتکاف کے ساتھ ساتھ مریدین کی اصلاح وتربیت بھی ہوجائے تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ہے، جائز ہے؛ لیکن تداعی، اتہام اور باقاعدہ اشتہارات وغیرہ کے ذریعے ”اجتماعی اعتکاف“ کا نظم کرنا جیسا کہ آج کل بعض جگہوں پر ہونے لگا ہے یہ قابل ترک ہے۔ رہا تداعی کے ساتھ نفل کی باجماعت ادائیگی تو فقہاء نے تصریح کی ہے کہ چار یا اس سے زائد مقتدیوں کے ساتھ باجماعت نفل پڑھنا خواہ ماہِ رمضان میں ہو یا کسی اور مہینے میں شرعاً مکروہ ہے؛ اس لئے اس سے بھی احتراز ضروری ہے۔



(۳) اگر کوئی شخص اپنی اصلاح کے خاطر کسی متبع سنت شیخ کی نگرانی اور ان کی تربیت میں اعتکاف کے لئے سفر کرتا ہے تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اگر اس طرح کی کوئی مصلحت نہ ہو تو اپنے محلہ ہی میں اعتکاف مناسب ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات