عبادات - صوم (روزہ )

Pakistan

سوال # 163781

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی حالت روزے میں کلی کرتا ہے جب کے گرمی کی شدت کو کم کرنے کے لیے ہو، کیا یہ بلا کراہت درست ہے یا مکروہ ہے ؟ جیسا کہ علامہ شامی نے کلی کو غسل لتبرید اور استنشاق و حجامہ کے ساتھ ملا کر مطلقاً درست کہا ہے بلا کراہت جبکہ صاحب بدائع نے مضمضہ بلا وضو کا الگ ذکر کیا اور اما ابو یوسف ہی کا قول کراہت کا ذکر کیا اور دیگر باتیں یعنی غسل لتبرید و استنشاق کو الگ ذکر کر کے غیر مکروہ کہا ہے ۔ بینوا و تؤجروا

Published on: Sep 12, 2018

جواب # 163781

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 1363-1189/D=12/1439



محیط برہانی، تنحفة الملوک، مجمع البحرین وغیرہ کتابوں سے صاحب بدائع الصنائع کی بات کی تائید ہوتی ہے، لہٰذا روزے کی حالت میں بلاوجہ کلی کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔ قال أبوحنیفة یکرہ للصائم أن یمضمض ویستنشق لغیر وضوء وأن یصبّ الماء علی وجہہ وعن أبي یوسف أنہ یکرہ لہ أن یتمضمض بغیر وضوء ولا بأس بأن یستنقع ویغسل علی رأسہ ثوبہ فیلف بہ ․



روُوي عن أبي یوسف أنہ یکرہ لغیر الصلاة لاحتمال وصول شيء إلی الجوف․ (تحفة الفقہاء: ۱/ ۳۶۸، ط: دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات