عبادات - صوم (روزہ )

india

سوال # 162961

ایک رمضان کے متعدد روزوں کے توڑنے کا کفارہ کیا ہے ؟ نیز متعدد رمضان کے متعدد روزوں کا کفارہ کیا ہے ؟ اور کھا پی کر اور ہمبستری کے ذریعے روزہ توڑنے میں کوئی تفصیل ہو تو وہ بھی بتائیں آپ کا ممنون ہوں گا۔

Published on: Sep 17, 2018

جواب # 162961

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1344-1263/L=1/1440



اگر کوئی آدمی رمضان المبارک کا روزہ رکھ کر توڑدے تو اس کے اوپر کفارہ لازم ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک غلام یا باندی آزاد کرے لیکن اگر یہ ممکن نہ ہو جیسا کہ آج کل کا دور ہے تو لگاتار دو مہینے کے روزے رکھے، درمیان میں کوئی ناغہ وغیرہ نہ ہو ورنہ تو از سر نو روزہ رکھنا ضروری ہوگااور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو پھر دونوں وقت ۶۰/ مسکینوں کو پیٹ بھر کھانا کھلائے جہاں تک کفارہ کی ادائیگی کا مسئلہ ہے اگر ایک ہی رمضان کے متعدد روزے بشکل جماع یا بشکل اکل وشرب وغیرہ توڑے ہیں تو ان تمام کی جانب سے ایک ہی کفارہ کافی ہوگا لیکن اگر متعدد رمضان کے روزے بشکل جماع توڑے ہیں تو پھر ہرسال کے رمضان کی طرف سے الگ الگ کفارہ ادا کرنا پڑے گا۔ واضح رہے کہ اکل وشرب کے اندر مطلقا تداخل ہے خواہ کتنے ہی سالوں کے روزے ہوں لیکن جماع کے اندر صرف ایک ہی سال کے روزوں میں تداخل ہوسکتا ہے کئی سالوں کے روزوں میں نہیں۔



والکفارة تحریر رقبة فإن عجز عنہ صام شہرین متتابعین لیس فیہا یوم عید ولا أیام التشریق فإن لم یستطع الصوم أطعم ستین مسکنا والشرط أن یکون یغدیہم ویعشہیم غذاء وعشاء مشبعین (نور الإیضاح مع مراقي الفلاح: ۳۶۶) مجمع الأنہر: ج۱ص۲۳۹) ولو تکرر فطرہ ولم یکفر للأول یکفیہ واحدة ولو في رمضانین عند محمد رحمہ اللہ وعلیہ الاعتماد الخ وفي الشامي: قولہ وعلیہ الاعتماد ونقلہ في البحر عن الأسرار ونقل قبلہ عن الجوہرة لو جامع فی رمضانین فعلیہ کفارتان وإن لم یکفر للأولی فی ظاہر الروایة وہو الصحیح. اہ. قلت: فقد اختلف الترجیح کما تری ویقوی الثانی بأنہ ظاہر الروایة ․ (رد المحتار: ۲/۱۵۱، ط: ظفیریہ)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات