عبادات - صوم (روزہ )

India

سوال # 162635

ایم پی میں ایک روزہ دار نے غیر مسلم کو موت سے بچاتے ہوئے خون عطیہ کیا ۔ واضح رہے کہ طبیب نے حالت روزہ میں خون لینے سے انکار کیا جس کے سبب روزہ دار کو اضطرارا روزہ توڑ کر خون دینا پڑا ۔ سوال یہ ہے کہ صورت مسئولہ میں قضا سمیت کفارہ بھی ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا

Published on: Jul 22, 2018

جواب # 162635

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1066-910/N=11/1439



صورت مسئولہ میں اگر طبیب کی رائے میں روزہ دار کا روزہ کی حالت میں خون لینے میں روزہ دار کے لیے جان کا یاکسی بڑی مصیبت کا خطرہ تھا اور کسی انسان کی جان بچانے کے لیے روزہ دار کا خون لینے کے علاوہ کوئی راستہ نہ تھا تو اس صورت میں روزہ دار نے طبیب کی ہدایت پر جو روزہ توڑا، اس پر صرف قضا کا حکم ہوگا، کفارہ واجب نہ ہوگا۔



مستفاد:وفی الظھیریة:رضیع مبطون یخاف موتہ من ھذا الدواء، وزعم الأطباء أن الظئر إذا شربت دواء کذا بریٴ الصغیر وتماثل وتحتاج الظئر إلی أن تشرب ذلک نھاراً في رمضان، قیل: لھا ذلک إذا قال ذلک الأطباء الحذاق، …أطلق فی الکتاب الأطباء الحذاق، قال رضي اللہ عنہ: وعندي ھذا محمول علی الطبیب المسلم دون الکافر الخ ۔ (البحر الرائق، کتاب الصوم، فصل فی العوارض،۲:۴۹۳، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات