عبادات - صوم (روزہ )

India

سوال # 162553

سوال: مفتی صاحب، میری امی نے ایک مرتبہ پیاس کی شدت کی وجہ سے روزہ توڈ دیا (اس وقت وہ 20-22سال کی تھی) اس وقت انہیں دین کا بہت کم علم تھا، نہ ہی روزہ توڑنے کا انجام معلوم تھا، کیا تبھی میری امی پر کفارہ لازم ہوگا؟ اب میری امی لگ بھگ 50-53 برس کی ہو رہی ہیں، براہ کرم مشکل حل کریں۔

Published on: Jul 2, 2018

جواب # 162553

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1054-934/D=10/1439



رمضان کے مہینہ میں روزہ رکھ کر پھر جان بوجھ کر توڑدینے سے قضا کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہوتا ہے اگر لاعلمی کی وجہ سے کیا تو بھی کفارہ واجب ہوگا۔ لیکن اگر پیاس کی شدت جان لیوا تھی اور یہ ڈر ہوا کہ اگر پانی نہیں پئیں گے تو جان چلی جائے گی اس طرح ہلاکت کے خوف کے وقت روزہ توڑدینے سے صرف قضا واجب ہوتی ہے کفارہ نہیں۔لہٰذا اگر ہلاکت کا ڈر نہیں تھا اور روزہ توڑدیا تو کفارہ بھی ادا کریں، کفارہ کا بیان تفصیل سے بہشتی زیور میں لکھا ہوا ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات