عبادات - صوم (روزہ )

INDIA

سوال # 162446

کیا فرماتے ہیں مفتیانے کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ہمارے علاقے میں رمضان المبارک میں فجرکی اذان سحر کے وقت میں ہوتی ہے اذان کے بعد بھی لوگ 12 منٹ تک سحری کھاتے رہتے ہیں کچھ لوگوں سے اس سلسلے میں بات چیت ہوئی تو ان لوگوں نے کہا ہمارے علاقے میں امام ابویوسف رحمہ اللہ کے قول پر فتویٰ ہے جبکہ کچھ لوگ اذان کے فورا بعد فجر کی سنتیں پڑھ لیتے ہیں اور کچھ مستورات گھر میں فرض نماز بھی پڑھ لیتی ہے شریعت کی روشنی میں اس اذان اور اذان کے بعد فورن سنتوں اور فرض نماز کا مسلہ کیا ہے اگر مناسب ہو تو کچھ تفصیل سے مسئلہ کی وضاحت فرما دے ۔

Published on: Jul 2, 2018

جواب # 162446

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1049-916/D=10/1439



صبح صادق کے طلوع ہونے تک سحری کا وقت رہتا ہے اس سے پہلے پہلے سحری کھاکر فارغ ہوجانا چاہیے اور اذان فجر صبح صادق کے چند منٹ بعد ہونی چاہیے چنانچہ دارالعلوم دیوبند کے ”نقشہ سحر وافطار“ میں اذان فجر کا وقت صبح صادق کے دس منٹ بعد درج ہے۔



صبح صادق سے پہلے اذان فجر کہنا درست نہیں اور نہ اس وقت فجر کی نماز درست ہے اور جب اذان فجر صادق کے بعد ہو تو اس وقت سحری وغیرہ کھانا جائز نہیں۔ آپ مقامی معتمد علماء اور مفتیان کرام سے اس مسئلہ کو سمجھ لیں اور علاقہ میں جو غلط طریقہ رائج ہے اس کے بارے میں انھیں علماء کو متوجہ کریں وہ اصلاح حال کی فکر او ر کوشش فرمائیں گے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات