عبادات - صوم (روزہ )

India

سوال # 162090

کیا فرماتے ہیں حضرات مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں ہماری مسجد میں ہر سال تراویح میں ختم قرآن کے موقع پر امام صاحب (جو کہ حافظ نہیں ہیں) تراویح پڑھا نے والے حافظ صاحب کے بجائے خود طویل اجتماعی جہری دعا کرا تے ہیں دعا کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ باہر کے تمام لاؤڈ اسپیکر جو اذان کے لئے استعمال ہوتے ہیں کھول دئے جاتے ہیں،خوب زور زور سے امام صاحب روتے ہیں گڑ گڑا تے ہیں اور ان کے ساتھ تمام مقتدی (مسجد کے اندر)دھاڑ مار مار کر روتے ہیں،دعا اتنی طویل ہو تی ہے کہ رونے والوں کے آنسو خشک ہو جا تے ہیں،دعامیں شرکت کرنے والوں کی تعداد اتنی ہوتی ہے کہ مسجد ان کے لئے چھوٹی پڑ جاتی ہے ،اس رقت آمیز دعا کا چرچا لوگوں کی زبان پر کئی دنوں تک رہتا ہے کیا حضور نے یا آپ کے صحابہ نے تراویح میں ختم قرآن کے موقع پر مسجد میں ایسی دعائیں کی ہیں اور اس دعا کی کیا فضیلت حدیث میں وارد ہوئی ہے ہمارے ایک مفتی صاحب کا کہنا ہے کہ یہ دعا اب بدعت کی حد تک پہنچ گئی ہے ،لہذا اس پر اگر ابھی روک نہیں لگائی گئی تو نتیجہ مزید خطرناک ہوتا چلا جائے گا۔
براہِ کرم اس مسئلہ میں ہماری رہنمائی فرمائیں اور یہ بتائیں کہ اس دعا کو جاری رکھا جائے یا اس کو موقوف کر دیا جائے ،امیدہے کہ آپ کافتوی اس مسئلہ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

Published on: Jul 2, 2018

جواب # 162090

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1136-1063/M=10/1439



آپ کے یہاں تراویح میں ختم قرآن کے موقع پر جس طریقے پر دعا کی جاتی ہے وہ خرابی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے لائق ترک ہے، دعا کی روح یہ ہے کہ تضرع وتخشع کے ساتھ دعا کی جائے، نام ونمود اور اظہار واعلان کا طریقہ اختیار نہ کیا جائے، مکمل یکسوئی اور قلبی توجہ کے ساتھ دعا مانگی جائے اور اتنی لمبی نہ ہو کہ اکتاہٹ ہونے لگے اور دعا سراً (آہستہ) کرنا اولیٰ ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات