عبادات - صوم (روزہ )

Pakistan

سوال # 160199

قابل احترام حضرت مفتی صاحب۔ مہینے میں ایام ابیض کے تین روزے ہیں اور جمعرات اور پیر کا سنت روزہ ہے ۔ میری رہنمائی فرمائیں کہ کیا کوئی شخص یہ سارے روزے رکھے سنت سمجھتے ہوئے یعنی مہینے میں ٹوٹل گیارہ روزے ، یا پھر صرف ایام ابیض کے رکھے ، یا پھر صرف جمعرات اور پیر کے یا پھر صرف پیر کا روزہ حضرت جس سے زیادہ سنت پر عمل ہو وہ رہنمائی فرمائیں ۔ اللہ آپ پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے ، آمین۔

Published on: Apr 5, 2018

جواب # 160199

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:731-628/N=7/1439



ایام بیض اور دوشنبہ اور پنجشنبہ کا روزہ مسنون ومستحب ہے، حسب ہمت وتوفیق اگر کوئی ان سب روزوں کا یا ان میں سے بعض کا اہتمام کرتا ہے تو فضیلت کی بات ہے۔ اور اگر کسی دو شنبہ یا پنجشنبہ کو ایام بیض کا کوئی روزہ آجاتا ہے تو دونوں کی نیت کرسکتے ہیں، اس صورت میں دونوں روزوں کا ثواب مل جائے گا۔ اور اگر کوئی شخص صحت کی کمزوری یا دینی یا دنیوی مشاغل کی کثرت کی وجہ سے اہتمام نہیں کرتا ہے تو کوئی گناہ کی بات نہیں۔



عن عائشةقالت: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یصوم الاثنین والخمیس، رواہ الترمذي والنسائي، وعن أبي ھریرةقال: قال رسول اللہ علیہ وسلم: تعرض الأعمال یوم الاثنین والخمیس فأحب أن یعرض عملي وأنا صائم، رواہ الترمذي، وعن أبي ذرقال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : یا أبا ذر! إذاصمت من الشھر ثلاثة أیام فصم ثلاث عشرة وأربع عشرة وخمس عشرة، رواہ الترمذي والنسائي ( مشکاة المصابیح، کتاب الصوم، باب صیام التطوع، الفصل الثاني، ص: ۱۷۹، ۱۸۰، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)، والمندوب کأیام البیض من کل شھر (الدر المختار مع رد المحتار، أول کتاب الصوم، ۳: ۳۳۶، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قال -فی البحر-: إن صومہ- صوم الجمعة- مستحب عند العامة کالاثنین والخمیس (رد المحتار، ۳: ۳۳۶)، فکذا الصوم عن الیومین، وأیدہ العلامة البیري بأنہ یجزیہ الصوم فی الواجبین ففي غیرھما أولی الخ اھ لکن لیس في ھذا جمع بین نیتین؛ بل ھو نیة واحدة أجزأت عن صومین (رد المحتار، کتاب الصلاة، آخر باب شروط الصلاة، ۲: ۱۲۵)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات