عبادات - صوم (روزہ )

Indian

سوال # 159715

ھمارے بستی میں ایک حافظ ھےوھ اپنے محلے کے مسجد میں امام ھے یعنی وہ اس مسجد میں پانچ وقت نماز پڑھاتےھیں مھینھ میں تنخھ لیتے ہیں لیکن کھانھ پینھ مسجد میں نہیں کرتے بلکہ اپنے گھر میں کرتے ہیں لیکن رمضان کے مہینے میں تراوی بھی پڑھاتے ھیں لیکن کھانھ نھ کھانے کی وجہ سے اس کو ھر گھر سے ایک سو دو سو پانچ سو روپیہ کرکے ھر گھر سے دیتا ہے تو اس کو لینا جائز ہے یانھیں؛ اور یہ پیسھ آخری رمضان میں دیتا ہے؛ دلیل کے ساتھ ضرور بتائیں

Published on: May 23, 2018

جواب # 159715

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:765-735/sn=9/1439



امام صاحب کو جو رقم بستی والوں کی طرف سے دی جاتی ہے اگر اس کا مقصد کھانے کا معاوضہ دینا ہی ہے تراویح میں قرآن سنانا کا عوض نہیں ہے یعنی اگر وہ کسی سال قرآن نہ سنائیں پھر بھی بستی والے امام صاحب کی یہ خدمت کریں گے تب تو مذکور فی السوال طریقے پر امام صاحب کو رقم دینے میں شرعاً کوئی حرج نہیں، جائز ہے، اگر مقصد تراویح میں قرآن سنانے کا معاوضہ دینا ہے ”کھانا“ کا عنوان محض حیلہ ہے تو بستی والوں کا رقم دینا اور امام صاحب کا لینا درست نہیں ہے؛ کیونکہ ”حیلہ“ دیانات میں جوازِ واقعی کا فائدہ نہیں دیتا۔ (امداد الفتاوی: ۱/ ۴۸۴، ط: زکریا)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات