عبادات - صوم (روزہ )

Saudia

سوال # 154476

یہ پوچھنا تھا کہ رمضان میں فاعل اور مفعول دونوں بد فعلی کررہے تھے کھڑے ہو کر لیکن فاعل کا دخول صحیح طرح نہ ہوا، بعد میں فاعل اور مفعول دونوں جدا ہوگئے ، اور فاعل نے مشت زنی کی لیکن فاعل روزہ کی قضا کرچکا ہے ، اب آیا روزے کی قضا کرے گا یا نہیں ؟

Published on: Oct 22, 2017

جواب # 154476

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1481-1496/H=2/1439



اگر دونوں رمضان المبارک کا روزہ رکھے ہوئے تھے اور بحالت روزہ بدفعلی کی اور دخولِ حشفہ بھی ہوگیا تب تو دونوں پر کفارہ بھی واجب ہوگیا اور ایک ایک روزہ کی قضا واجب ہے، کفارہ میں ہرایک پر لگاتار مسلسل ساتھ ساتھ روزے رکھ لینے پر کفارہ ادا ہوجائے گا اور ایک ایک روزہ قضاء رکھیں گے اس ایک ایک روزہ کو اگر کچھ بعد میں بھی رکھ لیں تو گنجائش ہے اوراگر دخولِ حشفہ نہ ہوا تھا کہ پہلے ہی علیحدہ ہوگئے اور فاعل نے مشت زنی کی تو اس پر ایک روزہ قضاء کرنا واجب ہے چونکہ مشت زنی سے روزہ ٹوٹ گیا اور اس سے صرف قضاء واجب ہوتی ہے کفارہ واجب نہیں ہوتا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات