عبادات - صوم (روزہ )

India

سوال # 153215

میری شادی کو تقریباً تین سال ہو گئے تھے، میری کوئی اولاد نہیں تھی، میں نے بہت علاج وغیرہ کروایا، اس کے بعد میری بیوی حاملہ ہوئی۔ اس حمل کے دوران ڈاکڑ نے کچھ ایسی دوا دی جو کہ میری بیوی کو اپنی شرمگاہ کے اندر رکھنی تھی جب ہم لوگ لمبے وقت کے لیے سوئیں۔ ہمارے گھر کا معمول ہے کہ سب لوگ سحری کرنے کے بعد سوتے ہیں۔ اس لیے میری بیوی نے یہ دوا اپنی شرمگاہ میں فجر کی نماز کے بعد رکھی بحالت روزہ۔
ایک مرتبہ ایسے ہی انٹرنیٹ پر میں چیک کر رہا تھا تو شیعہ مسئلہ میں لکھا تھا کہ روزہ کی حالت میں شرمگاہ میں کوئی دوا رکھنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ ہم لوگوں اس بات کا کوئی علم نہیں تھا کہ دوا شرمگاہ میں رکھنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔ یہ دوا حمل کے لیے ضروری تھی۔
براہ مہربانی اس بارے میں مسئلہ کا حل بتائیں۔

Published on: Aug 5, 2017

جواب # 153215

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 1231-1132/H=11/1438



چونکہ یہ دوا داخل فرج بلکہ کافی اندرونی حصہ میں رکھی جاتی ہے پس اگر یہ دوا بعد فجر رکھی تھی تو روزہ فاسد ہوگیا اور اس روزہ کی قضا واجب ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات