عبادات - صوم (روزہ )

India

سوال # 152609

میری والدہ کی عمر ۵۷ سال ہے، کچھ سال پہلے ان کے دماغ کا آپریشن ہوا تھا اور پھر بعد میں ان کی صحت خراب ہوگئی، ڈاکٹر نے سختی سے دو باتوں پر عمل کرنے کے لیے کہا ہے، ڈاکٹر مطابق ان اگران دونوں باتوں پر عمل نہیں کیا گیا تو ان کی مزید صحت خراب ہوجائے گی اور ان کی زندگی آسی یو میں ختم ہوگی۔وہ دونوں باتیں ہیں: (۱) رات کے آخری حصے میں ٹہلناہے،(۲) بہت زیادہ تھکنا۔
میرا سوال یہ ہے کہ جب والدہ صحت یاب ہوجائیں اور گھر کے تمام کام کاج کرنے لگیں تو صرف ایک چیز ان کو روزہ رکھنے سے روک سکتی ہے اور وہ رات کو ٹہلنا ہے، ان کو ساری عمر اس پر عمل کرنا ہوگا۔پس منظر میں صرف سحری میں اٹھنے کا مسئلہ ہے، تو کیا وہ اپنے حساب سے سحری کھاسکتی ہیں؟یعنی چھ سات بجے صبح؟
(۲) افطار مقامی وقت کے حساب سے کرسکتی ہیں؟کیا وہ سعودی عرب کے حساب سے روزہ رکھ سکتی ہیں جو کہ ان ممالک کے مسلمانوں کے لیے ایک آپشن ہے جہاں روزہ انیس اکیس گھنٹے کا ہوتاہے؟
(۳)قرآن وحدیث کی ورشنی میں کوئی اور آپشن ہوتو بتائیں۔

Published on: Aug 3, 2017

جواب # 152609

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 1146-1093/H=11/1438



(۱) افطار وسحری دونوں کو مقامی وقت کے لحاظ سے ہی کرنا ضروری ہے یعنی جس وقت بنگلور میں صبح صادب ہوگی اس سے پہلے سحری کرنا اور جو وقت آفتاب کے غروب ہونے کا بنگلور میں ہے اُس کے بعد ہی افطار کرنا ضروری ہے، سعودی عرب کے اوقات ملحوظ رکھ کر نہ افطار کرنا درست ہے نہ ہی سحری کرنے کی اجازت ہے، حاصل یہ کہ مقامی وقت کے لحاظ سے اگر صبح صادق گذرجانے کے بعد سحری کھائی یا غروبِ آفتاب سے پہلے افطار کرلیا تو روزہ درست نہ ہوگا ٹہلتے ٹہلتے اگر سحری کرلیا کریں اور صبحِ صادق سے پہلے فارغ ہوجایا کریں تو اس میں کچھ مانع ہے کیا؟ اور تھک جانے سے کیا مراد ہے؟ اس کو واضح اور صاف انداز پر لکھئے۔



(۲) (۳) نمبر ایک کے تحت جواب آگیا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات