عبادات - صوم (روزہ )

Pakistan

سوال # 152569

امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے اور رمضان کریم کی برکتوں سے مستفید ہو رہے ہوں گے ۔ محترم ایک مسئلہ کے بارے میں پوچھنا تھا۔، چونکہ دیہاتوں میں افطارمغرب کی اذان سے کیا جاتا ہے اور مقامی وقت کے مطابق آٹھویں رمضان المبارک کو مغرب کی اذان 7:24 پہ ہونی تھی لیکن مولوی صاحب نے نادانستہ طور پر یا شاید گھڑی کی ٹائمنگ غلط ہونے کیوجہ سے مغرب کی آذان 7:15 پہ دی اور اسی وجہ سے کچھ لوگوں نے 7:24 کی بجائے 7:15 پہ روزہ افطار کیا، اب اکثر مولوی صاحبان فرماتے ہیں کہ جن لوگوں نے اذان کی ٹائمنگ کی غلطی پہ شبہ ظاہر کرنے کے باوجود روزہ افطار کیا ہے وہ لوگ کفارہ کے طور پہ 60 روزے رکھیں گے ، اور جن لوگوں نے بلا شبہ ٹائم دیکھے بغیر اذان کی آواز پہ افطار کیا ہے وہ صرف 1 روزہ رکھیں گے ۔ واضح رہے کہ جس مولوی صاحب نے اذان دی ہے وہ ہمارے گاؤں بلکہ آس پاس کی دیہاتوں میں بڑے معتبر، پاکباز، مخلص اور پرہیزگار مشہور ہیں اور تمام اہل علاقہ اس کی باتوں پر من وعن بلا سوچے سمجھے عمل کرتے ہیں۔ لہٰذا رہنمائی فرمائی جائے ۔

Published on: Jul 20, 2017

جواب # 152569

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 957-812/D=10/1438



اگر یہ یقین ہے کہ ۱۵-۷پر اذان کہی گئی ہے اور نظام الاوقات کے اعتبار سے ۲۴-۷پر غروب ہوتا ہے مذکور فی السوال دن میں اگر غروب سے یقینی طور پر ۵-۷منٹ پہلے افطار کرلیا گیا تو اس دن کا روزہ نہیں ہوا، صرف قضا کرنا واجب ہوگا کفارہ واجب نہیں، خواہ غلطی پر شبہ ہوا ہو یا نہ ہوا ہو کیونکہ کفارہ عمدا توڑنے کی صورت میں ہوتا ہے یہاں وہ نہیں ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات