عبادات - صوم (روزہ )

Saudi Arabia

سوال # 152557

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں جس میں پاکستانی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد لاعلمی میں مبتلا ہے کہ عوام الناس میں یہ بات مشہور ہے کہ اذان فجر شروع یا ختم ہونے تک سحری کہاتے رہنے کی گنجائش ہے اور مزید یہ کہ جب انہیں اس طرف توجہ دلائی جائے تو وہ اپنی بات پر مصر رہتے ہیں، جس کا مطلب یہ کہ مسئلہ علم میں آنے کے باوجود بھی وہ ایسا کرتے ہیں جبکہ ہر عاقل باشعور میں یہ بات باآسانی آسکتی ہے کہ اذان فجر صرف اسی صورگ میں دی جاتی ہے جب کہ فجر کا وقت داخل ہوجائے یعنی صبح صادق ہوچکی ہوتی ہے جب ہی اذان فجر دی جاتی ورنہ وہ اذان اذان فجر کیسے ہوئی؟
اب سوال یہ ہے کہ ان لوگوں کا وہ روزہ جو انہوں نے صبح صادق کا وقت ہوجانے کے بعد سحری کہاتے رہنے سے رکہا چاہے ان کو اس مسئلہ کا علم کسی کے ذریعہ ہوچکا تھا یا نہیں ہوا تھا دونوں صورتوں میں کیا ایسے روزہ کی قضاء لازم ہوئی؟ اور کیا اس پر روزہ توڑنا صادق آتا ہے جس پر روزہ کا کفارہ بھی لازم آتا ہو؟ رمضان شریف کی مناسبت سے اس مسئلے کا جلد از جلد جواب دیکر مسلمانوں کو اس لاعلمی سے نکالنے کی درخواست ہے ۔

Published on: Jul 23, 2017

جواب # 152557

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 955-152/D=10/1438



سحری کا وقت جب ختم ہوتا ہے ویسے ہی صبح صادق کی وجہ سے فجر کا وقت شروع ہوتا ہے گویا صبح صادق ایک ہی علامت دونوں چیزوں کی ہے، ختم سحر اور وقت فجر کی لہٰذا سحری کھانے والوں کو ۵-۱۰منٹ پہلے سحری بند کردینا چاہیے اور اذان فجر صبح صادق کے ۵-۱۰منٹ بعد کی جائے، اگر اس طرح احتیاط پر عمل ہو تو کسی قسم کا خلط ملط واقع نہ ہو اس لیے دارالعلوم دیوبند کے نقشہ سحر وافطار میں سحر کا جو وقت لکھا ہے ہدایت میں یہ لکھ دیا گیا کہ اس سے کم ازکم ۵/ منٹ پہلے سحر کھانا بند کردیں اور ایک دوسرا خانہ اذان فجر کا ہے جس میں ختم سحر سے دس منٹ بعد کا وقت لکھا گیا ہے۔



اگر یقین طور پر معلوم ہوجائے کہ صبح صادق ہوجانے کے بعد کھانا پینا پایا گیا تو ان کا روزہ یقینی طور پر نہیں ہوا قضا لازم ہے، اور اگر پورا یقین نہ ہو مثلاً یہ شبہ ہو کہ شاید اذان کچھ پہلے ہوگئی ہو تو ایسی صورت میں روزہ مشکوک ہوگا قضا کرلینا بہتر ہے، البتہ عمدا توڑنا نہیں پایا گیا اس لیے کفارہ لازم نہ ہوگا۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات