عبادات - صوم (روزہ )

India

سوال # 152348

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں افطار کے اعلان کی کیا صورت تھی اور سحری کے ختم کا کیا اعلان کیا جاتا تھا ؟جیسا کہ ہمارے علم میں ہے کہ یہ کام صرف اذان کے ذریعہ ہی ہوتا تھا اور ہوتا چلا آرہا تھا لیکن اب چند برسوں سے نئی شکل وجود میں آئی ہے کہ ۵ یا ۶ منٹ قبل یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ سحری کا وقت بالکل ختم ہوچکا ہے کھانا پینا بند کردیں اور ساتھ ہی یہ بھی اضافہ کیا جاتا ہے کہ کوئی کھانے پینے کی کوشیش نہ کریں اور افطار کے لیے اعلان اور سائرن کا استعمال کیا جاتا ہے ،میرے ناقص ذہن میں یہ ہے کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تو اس طرح اعلان کرا سکتے تھے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان کو ہی پسند فرمایا تو سنت یہی ہے ، دوسرے جو نقشہ اوقات مسجد میں لگا ہے اس میں صبح صادق ختم سحر ایک ساتھ لکھا ہے جو ۵ یا ۶ منٹ قبل ہے رمضان میں ہی نہیں غیر رمضاں بھی یہی وقت لکھا رہتا جس کی وجہ سے اذان فجر وقت سے قبل ہونے کی وجہ سے فساد نماز کا اندیشہ ہے ، اس کا حل تحریر فرمائیں۔

Published on: Jun 24, 2017

جواب # 152348

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 895-743/D=9/1438



حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اور اس کے مابعد کے زمانے تک لوگ غروب شمس کا خود مشاہدہ کرکے افطار کرتے تھے پھر بعد کے دور میں گھنی آبادی اور گھروں میں رہنے والوں کو اذان کے ذریعہ اطلاع ہو جاتی اور کہیں گولہ داغنے اور نقارہ بجانے کا رواج بھی تھا۔ لیکن سحر میں صبح صادق کے مشاہدہ سے سحری کھانا بند کرتے تھے اور بعد کے دور میں گولہ نقارہ وغیرہ بھی ہونے لگا اذان کے ذریعہ سحری بند کرنے کا معمول نہیں تھا کیونکہ اذان صبح صادق کے ظاہر ہونے کے بعد ہوتی ہے جب کہ سحری کا وقت ختم ہوکر فجر کا وقت داخل ہو جائے۔ البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی دور میں ایک اذان تہجد میں اٹھانے کے لیے بھی ہوتی تھی اس وقت سحری کھانا جائز ہوتا۔



ختم سحر یا صبح صادق کا جو قت نقشہ اوقات میں لکھا رہتا ہے سحری کھانا احتیاطاً اس سے پانچ سات منٹ پہلے ختم کردینا چاہئے کیونکہ یہ حسابات تخمینی ہیں اور گھڑیوں کا فرق بھی عام طور پر ہوتاہے لہٰذا صبح صادق کے آخری منٹ تک کھاتے رہنے خلاف احتیاط ہے۔



نیز صبح صادق کے وقت پر اذان فجر نہ کہی جائے بلکہ دس منٹ بعد کہی جائے کیونکہ مختلف جنتریوں میں بھی فرق ہوتا ہے اور اذان کے لیے صبح صادق کا بیِّن یعنی اچھی طرح ظاہر ہو جانا ضروری ہے اسی لیے دارالعلوم دیوبند کے اشتہارات رمضان میں ایک خانہ وقت ختم سحر کا ہے اور دوسرا خانہ وقت اذان فجر کا ہے دوسرے خانے میں پہلے خانے کے وقت سے دس منٹ بعد کا وقت لکھا جاتا ہے۔ سحری کے وقت کے لیے اعلان کوئی شرعی چیز نہیں ہے بلکہ لوگوں کی سہولت کے لیے شرعی عمل (روزہ) میں معاون ہے۔ اعلان نہ بھی کیا جائے اور لوگ اپنے اپنے طور پر صبح صادق کا مشاہدہ کرکے یا گھڑی وغیرہ کے مدد سے صبح صادق سے پہلے پہلے سحری کھانا بند کردیں یہ بھی درست ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات