عبادات - صوم (روزہ )

India

سوال # 145308

عرض خدمت یہ ہے کہ رمضان المبارک کی اخیر عشرہ کی راتوں میں اجتماعی طور پر اعتکاف کرنا اور اس میں اجتماعی طور پر بیانات کرنا، نعت خوانی کرنا، اجتماعی دعا کرنا اور اجتماعی طور پر اعلی درجے کا کھانے پینے کا نظم کرنا اور اس پروگرام کے لئے چندہ کرنا کیسا ہے ؟کیا حضور صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ، تابعین وتبع تابعین کے دور رمضان المبارک میں اس طرح کا کوئی خاص اہتمام ہوتا تھا؟اگر کوئی عالم یا مفتی اس طرح کا عمل کرے اور کہے یہی نبی کی سنت ہے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ہذا برائے مہربانی مفصل و مدلل جواب دے کر ممنون و مشکور ہوں۔

Published on: Nov 13, 2016

جواب # 145308

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 010-028/Sd=2/1438



 



 حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ مسجد نبوی میں اعتکاف فرمانا ثابت ہے،اجتماعی اعتکاف میں اعتکاف کے ساتھ ساتھ متعلقین اور متوسلین کی تربیت بھی مقصود ہوتی ہے، اس لیے رمضان المبارک کے اخیر عشرے میں مشایخ کے ساتھ اجتماعی اعتکاف کرنا اور اُس میں اصلاحی بیانات اور اجتماعی دعا وغیرہ کا ہونا شرعا جائز ہے اور اخیر عشرے میں صرف رات میں اعتکاف کی نیت سے مسجد میں رہنااور اصلاحی بیانات و غیرہ میں شرکت کرنا بھی جائز ہے۔ قال النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم : من کان اعتکف معي، فلیعتکف العشر الأواخر۔۔۔ ( البخاري، الاعتکاف في العشر الأواخر والاعتکاف في المساجد کلہا، رقم: ۱۱۶۷ )



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات