عبادات - صلاة (نماز)

Pakistan

سوال # 9722

میرا سوال یہ ہے کہ اگر جماعت ہورہی ہو اور ایک شخص بعد میں آئے اورجماعت کے ساتھ شامل ہونا چاہے لیکن اگلی صف میں جگہ نہ ہو تو(۱)کیا پیچھے اکیلا کھڑا ہو سکتاہے؟ (۲) کیا اس کی نماز جو اس نے اکیلے امام کے پیچھے پڑھی ہے ہو جائے گی؟ (۳)بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس طرح اگلی صف والوں اور امام کی بھی نہیں ہوگی اس لیے جماعت دوبارہ کروانی پڑے گی۔ کیا یہ بات درست ہے؟ حوالہ کے ساتھ جواب دیں اور حوالہ کا ترجمہ بھی ساتھ میں لکھ دیں۔

Published on: Jan 11, 2009

جواب # 9722

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 1305=1305/ م


 


اگر اگلی صف میں جگہ نہ ہو، تو ایسی صورت میں امام کے رکوع کرنے تک انتظار کرلے، اگر کوئی دوسرا شخص آجائے تو اس کے ہمراہ امام کی سیدھ میں صف کے پیچھے کھڑا ہوجائے، اور اگر کوئی نہ آئے تو اگلی صف سے کسی ایسے شخص کو جو مسئلے سے واقف ہو، کھینچ کر اپنے ساتھ کرلے اور دونوں صف کے پیچھے کھڑے ہوجائیں اور اگر کوئی ایسا شخص نہ ملے جو مسئلے سے واقف ہو، اور کسی دوسرے کو کھینچنے میں اندیشہ ہو کہ وہ اپنی نماز فاسد کردے گا تو ایسی صورت میں اکیلا ہی کھڑا ہوجائے، شامی میں ہے: إن وجد في الصف فرجة، سدّہا وإلا انتظر حتی یجيء آخر، فیقفان خلفہ وإن لم یجئ حتی یرجع الإمام، یختار أعلم الناس بہذہ المسئلة فیجذبہ ویقفان خلفہ، ولو لم یجد عالماً یقف خلف الصف بحذاء الإمام للضرورة الخ ۔


(۲) اس کی نماز ہوجائے گی۔


(۳) یہ بات صحیح نہیں ہے جو لوگ ایسا کہتے ہیں ان سے ہی اس کا حوالہ طلب کیجیے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات