عبادات - صلاة (نماز)

Pakistan

سوال # 9667

بات کچھ اس طرح ہے کہ ہماری آفس میں ظہر اور عصر کی نماز باجماعت ہوتی ہے جو کہ آفس ہی کے ایک صاحب جماعت کرواتے ہیں۔ باشرع ہیں اور دین کے بارے میں اچھی معلومات رکھتے ہیں۔ کبھی کبھی جب وہ نہیں ہوتے تو ایک اور صاحب ہیں وہ جماعت کرواتے ہیں لیکن میرے نزدیک ان میں ایک برائی ہے۔ ہماری آفس میں ایک قادیانی بھی ہے یہ صاحب ان کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں ۔ ہوتا یہ ہے کہ سب اپنے اپنے گھر سے لنچ لے کر آتے ہیں یہ چار افراد ساتھ بیٹھ کر کھاتے ہیں اور چاروں ایک دوسرے کے پلیٹ میں کھانا کھاتے ہیں۔ کیا ان صاحب کے پیچھے نماز ہوجائے گی؟ (۲)میں نے یہ سنا ہے کہ امام صاحب کی جائے نماز درمیان میں ہوتی ہے لیکن ہمارے یہاں جگہ کا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے امام صاحب کی جائے نماز ایک طرف کونے میں ہوتی ہے اس سے نماز میں تو کوئی فرق نہیں آتا؟ (۳)ہماری آفس میں اذان اور اقامت دینے والے صاحب کی نہ تو داڑھی ہے اور نہ ہی مونچھیں ، اس سے ہماری نماز پر کوئی فرق تو نہیں پڑتا؟

Published on: Dec 31, 2008

جواب # 9667

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 2230=164/ د


 


(۱) ان صاحب کے عقائد صحیح ہیں تو ان کے پیچھے نماز درست ہوجائے گی۔ البتہ ان کا قادیانی کے ساتھ کھانا پینا مراسم رکھنا حرام ہے، جو کسی طرح ٹھیک نہیں ہے اور دینی اعتبار سے ان کے لیے نقصان دہ ہے، حدیث میں ہے: المرء علی دین خلیلہ فلینظر من یخالل (آدمی اپنے دوست کے مذہب پر ہوتا ہے، یا اس کے اثرات قبول کرتا ہے، پس ہرشخص یہ دیکھ بھال لے کہ وہ کس سے دوستی کررہا ہے۔)


(۲) امام کو بیچ میں کھڑا ہونا چاہیے، اس طرح کہ اس کے دائیں اور بائیں لوگ برابر ہوں، حتی الوسع اس کی کوشش کرلی جائے، اگر جگہ کی تنگی کی وجہ سے کچھ فرق ہوجائے تو مضائقہ نہیں۔

(۳) نماز میں تو فرق نہیں پڑتا لیکن ایسے شخص کی اذان واقامت مکروہ ہے اُسے پورا ثواب نہیں ملتا اور جو باشرع لوگ خود اذان و اقامت کہنے کی کوشش نہیں کرتے حتی کہ بے شرع لوگ آگے بڑھ جاتے ہیں، تو ایسے باشرع لوگوں کو کوتاہی کا گناہ ہوگا۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات