عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 9623

مجھے صحیح حدیث سے بتائیں کہ رفع یدین سے نماز کے بارے میں احادیث میں کیا لکھا ہے؟ رفع یدین سے نماز پڑھنا چاہیے یا نہیں؟

Published on: Dec 2, 2008

جواب # 9623

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 2209=1802/ ب


 


شروع شروع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر تحریمہ میں رکوع میں جاتے وقت رکوع سے اٹھتے وقت سجدہ میں جاتے وقت، نیز سجدے سے اٹھتے وقت اور دو رکعت کے بعد قیام کے وقت رفع یدین فرماتے تھے، بعد میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ باقی تمام موقعوں پر رفع یدین موقوف ہوگیا، چنانچہ سجدوں میں جاتے اور سجدوں سے اٹھتے وقت رفع یدین کے منسوخ کے سب ہی قائل ہیں، فریق مخالف صرف رکوع میں جاتے اور اس سے اٹھتے وقت رفع یدین کرنے پر اب بھی مصر ہے، جب کہ ہم کہتے ہیں کہ جس طرح سجدوں میں رفع یدین پہلے تھا اب نہیں ہے، اسی طرح رکوع میں بھی رفع یدین پہلے تھا اب منسوخ ہوچکا ہے، روایت ملاحظہ فرمائیں: عن جابر بن سمرة قال خرج علینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال مالي أراکم رافعي أیدیکم کأنہا أذناب خیل شمس أسکنوا في الصلاة (صحیح مسلم، ج۱ ص۱۸۱، ابوداوٴد ج۱ ص۱۰)


قد أفلح الموٴمنون الذی ھم في صلاتھم خاشعون قال ابن عباس الذین لا یرفعون أیدیکم (تفسیر ابن عباس، ص:۳۲۳)


عن مجاہد قال صلیت خلف ابن عمر فلم یکن یرفع یدیہ إلا في الکتکبیرة الأولی من الصلاة (مصنف ابن شیبة، ص:۲۳۷، مع الطحاوي)


عن البراء بن عازب أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یرفع یدیہ إذا افتتح الصلاة ثم لا یرفعہما حتی ینصرف (المدونة الکبر، ص:۵۹ ج۱)


عن سالم عن أبیہ: قال رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا افتتح الصلاة رفع یدیہ حتی یحاذي بہما وقال بعضہم: حذو منکبیہ وإذا أراد أن یرکع وبعد ما یرفع رأسہ من الرکوع لا یرفعھما وقال بعضہم ولا یرفع بینا لسجدتین والمعنی واحد (صحیح أبوعوانة، ۹۰ ومسند حمیدی، ج۲ ص۲۷۷


ان احادیث کی روشنی میں سمجھ سکتے ہیں ?عدم رفع? کا مسئلہ کس طرح موٴید بالدلائل ہے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات