عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 9591

عرض یہ ہے کہ نماز میں جب کھڑے ہوتے ہیں تو کیا زبان سے نیت کرنا ضروری ہے؟ یا وضو کرکے آنے کے بعد اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لیں؟ سنت، نفل، واجب، صلوة تسبیح، صلوة توبہ وغیرہ نمازوں کا کیا طریقہ ہے؟ نیت باندھنا یا دل میں جو نیت کرتے ہیں وہی کافی ہے؟

Published on: Dec 23, 2008

جواب # 9591

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 2295=2090/ د


 


نیت نام ہے دل سے ارادہ کرنے کا، نماز شروع کرتے وقت یہ ارادہ ہوگیا کہ ہم نماز پڑھ رہے ہیں اورظہر کی فرض پڑھ رہے ہیں، بس اس قدر ارادہ کافی ہے، اسی کا نام نیت ہے۔ لیکن انسان کا دل مختلف چیزوں میں مشغول رہتا ہے اس لیے دل سے ارادہ کرنے کے وقت زبان سے کہہ لینا بھی بہتر ہے جس سے یہ یقین ہوجائے کہ دل نماز کا ارادہ کررہا ہے، بے خیال میں یونہی نیت نہ باندھ لے کہ اس سے نماز صحیح نہ ہوگی۔


(۲) جو نماز پڑھ رہے ہیں سنت، نفل، فرض، اسی نماز کی نیت دل میں کرکے زبان سے بھی کہہ لیں، اس قدر کافی ہے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات