عبادات - صلاة (نماز)

Saudi Arabia

سوال # 9278

ہم حنفیوں کوعصر کی نماز کب پڑھنا چاہیے؟ آپ کو تو علم ہوگا کہ یہاں سعودی میں نماز عصر بہت جلدی ہوجاتی ہے ۔ میرے گھر کے سامنے مسجد ہے اوراذان اورنماز کی آواز بہت تیز آتی ہے ایسے میں میں کیاکروں؟ جب کہ موٴذن عصر کی اذان دے دے اور نماز شروع ہوجائے کیا میں موٴخر کرکے پڑھوں یا کہ جماعت میں شریک ہوجاؤں (اگر موٴخر کرکے پڑھوں، تو جماعت کا ثواب گیا اور اگر مسجد میں جماعت کے ساتھ پڑھوں تو نماز کے وقت سے پہلے ہی نماز پڑھنا پڑے گی) ایسے میں میں کیا کروں؟ جواب عنایت فرماکر مجھ جیسے بہت سارے لوگوں کی اہم عبادت نماز کا مسئلہ حل فرمانے کی زحمت کریں۔ اگر ایک مسئلہ پر اور روشنی ڈال دیں تو فائدہ ہوگا کہ مسجدوں میں کان پھاڑ دینے والے لاؤڈ اسپیکر کس حد تک ضروری ہیں جب کہ ہر تھوڑی دور پر مسجد ہے اورہر مسجدمیں پہلی سے زیادہ تیز آواز والا لاؤڈ اسپیکر نصب ہے(کبھی کوئی بیت الخلاء میں ہے، کبھی کوئی تہجد کے وقت سو رہا ہے)۔

Published on: Jan 10, 2009

جواب # 9278

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 1671=1366/ ل


 


(۱) بہتر یہ ہے کہ آپ کچھ احباب جمع ہوکر الگ کسی کمرے میں جماعت کرلیا کریں، اور اگر احباب نہ مل سکیں تو بھی ایسی صورت میں تنہا پڑھنا افضل ہے، اگرچہ جماعت فوت ہوجائے، البتہ حرمین شریفین کی فضیلت کے پیش نظر وہاں جماعت ترک نہ کی جائے۔


(۲) جب ایک مسجد کی اذان پورے گاوٴں یا شہر میں پھیل جاتی ہے تو ہرمسجد میں تیز آواز والا لاوٴڈ اسپیکر استعمال کرنا درست نہیں۔


نوٹ: اتنی ہی بلند آواز کا اسپیکر لگائیں جو مسجد کے آس پاس وابستہ لوگوں تک آواز پہنچادے۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات