عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 9274

حضرت میں یہ چاہتا ہوں کہ نمازمیں میرا خیال کہیں پر بھی نہ بھٹکے لیکن مجھے نماز میں ایسے ایسے خیالات آتے ہیں کہ میں بیان نہیں کرسکتا۔ گندے گندے خیالات جیسے نماز میں کسی لڑکی کا خیال، انتہا سے زیادہ گندے گندے خیالات۔ اورنماز کے باہر جس کسی لڑکی کو بھی دیکھتا ہوں اس کے بارے میں سوچنا شروع کردیتا ہوں۔ برائے کرم مجھے کوئی وظیفہ وغیرہ بتائیں یا پھر کوئی علاج؟

Published on: Dec 22, 2008

جواب # 9274

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 1589=1332/ل


 

نماز میں خیال آنا برا نہیں ہے، بلکہ خیالات لانا برا ہے، اس لیے اگر کبھی نماز میں غلط خیالات آئیں تو ان کی طرف التفات کے بغیر نماز جاری رکھیں۔ اور نماز کے باہر بدنظری کا علاج یہ ہے کہ اولاً آپ ہمت کرکے نگاہ نیچی کریں، ثانیاً اللہ کے وعیدوں کا استحضار کریں، اور ثالثاً کچھ ذکر وغیرہ کرلیا کریں۔ ایسی حالت میں جب کہ بدنگاہی کا پورا اندیشہ ہو اگر کوئی شخص ہمت کرکے اس سے رکتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو ایسی عبادت کی توفیق مرحمت فرماتے ہیں جس کی لذت اس سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات