عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 6341

ہماری مسجد میں ایک امام جو مکمل حافظ بھی نہیں ہیں دس پندرہ سالوں سے امامت کررہے ہیں۔ مسجد کی آمدنی چندہ اورکرایہ پر ہے۔ امام صاحب علاج پانی کرتے ہیں او ران کے گھر کا ماحول ٹھیک نہیں ہے۔ ان کی بیوی ان پر حاوی ہے۔ کئی مقتدی ان سے ناراض ہیں۔ لیکن وہ امامت چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں، کیوں کہ ان کو اس لیبل سے بہت آمدنی ہے۔ مسجد کا ٹرسٹ نہیں ہے۔ ایک شخص صدرکا دعوی کرتا ہے اور وہ دینی علم سے کوسوں دور ہے۔ نیا رجسٹریشن بھی نہیں کروارہا ہے ۔ اس کی امام صاحب سے سانٹھ گانٹھ ہے۔ امام کی دوبیٹیاں بھی نوکری کرتی ہیں۔ امام نوکری چھوڑنے کو تیار نہیں ہے۔ امام نے بینک سے قرض بھی اٹھارکھا تھا جوابھی بھی کچھ باقی ہے۔ ایسے امام کو امامت کرنا چاہیے یا نہیں؟ واضح فرمائیں۔

Published on: Jul 19, 2008

جواب # 6341

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 1052=993/ د


 


امام صاحب کی جو کمیاں یا کوتاہیاں خلاف شرع معلوم ہوتی ہیں محلہ کے سمجھ دار، دین دار لوگ، ان سے اس معاملہ میں گفتگو کریں امید ہے کہ وہ اپنی کوتاہیوں کی اصلاح کرلیں گے، اگر نہیں کرتے ہیں تو مذکورہ لوگ ذمہ دارانِ مسجد کے اتفاق سے ایک تحریر بذریعہ ڈاک بھیجیں جس پر سب کے دستخط ہوں اور جو یقینی اور واقعی کوتاہیاں امام صاحب کی ہیں، ان کا ذکر ہو، پھر اس تحریر کی روشنی میں جواب لکھ دیا جائے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات