عبادات - صلاة (نماز)

United Kingdom

سوال # 6181

جب کوئی شخص امام کے ساتھ تاخیر سے شریک ہوتا ہے جب کہ امام نے نماز شروع کردی ہے یا امام قیام ، رکوع، قومہ، سجدہ ، جلسہ وغیرہ میں ہے ، تو مقتدی یا مسبوق کو ثنا کب پڑھنا چاہیے اور کب ثنا نہیں پڑھنا چاہیے؟ حوالہ عنایت فرماویں۔

Published on: Aug 7, 2008

جواب # 6181

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 610=610/ م


 


اگر کوئی شخص امام کے ساتھ ایسے وقت میں آکر شریک ہوا کہ امام نماز شروع کرچکا ہے، تو اگر امام جہری قراء ت میں مشغول ہو، تو اس وقت نیت باندھ کر خاموش کھڑا ہوجانا چاہیے، ثنا نہ پڑھنی چاہیے، اور اگر امام نے ابھی قراء ت شروع نہیں کی ہے یا امام سری قراء ت میں مشغول ہو تو ثنا پڑھ لینی چاہیے۔ اور اگر امام کو رکوع یا سجدہ وغیرہ میں پائے تو اگر غالب گمان یہ ہو کہ ثنا پڑھ کر امام کو اس رکن میں پالے گا تو ثنا پڑھ لے ورنہ چھوڑکر امام کے ساتھ شریک ہوجائے۔ در مختار میں ہے: وقرأ سبحانک اللّٰھم․․․․ إلا إذا شرع الإمام في القراء ة وفي رد المحتار: ولو أدرک الإمام بعد ما اشتغل بالقراء ة، قال ابن الفضل: لا یثني وقال غیرہ: یثني، وینبغي التفصیل، إن کان الإمام یجھر لا یثني، وإن کان یسرّ یثني، وفي الدرالمختار: ولو أدرکہ راکعًا أو ساجدًا، إن أکبر رأیہ أنہ یدرکہ أتی بہ۔ (شامي زکریا، ج۲ ص۱۸۹-۱۹۰)


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات