عبادات - صلاة (نماز)

Saudi Arabia

سوال # 2156

میں ہندوستانی ہوں اور سعودی عرب میں رہتا ہوں۔ میں درج ذیل سوال کرنا چاہتا ہوں۔


(۱) یہاں لوگ عمومی طور پر غیر چرمی موزوں پر مسح کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں۔ امام مسجد بھی ایساکرتے ہیں، کیا ہماری نماز ان کے پیچھے ہوجائے گی؟ اگر نہیں تو ہم کیا کریں؟


(۲) ہم بس سے عمرہ کے لیے جاتے ہیں ، بس ڈرائیور دیر گئے شام کو بس اس وقت روکتا ہے جب مغرب کا وقت نکل چکا ہوتا ہے کیوں کہ یہاں لوگ سفر میں مغرب و عشاء ایک ساتھ پڑھتے ہیں۔ ایسی صورت میں ہم حنفی کیا کریں؟

Published on: Sep 1, 2007

جواب # 2156

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى:  327/ن = 568/ن)


 


(۱) اگر ائمہ حضرات کپڑے کے ایسے بارک موزے پہنتے ہیں جن میں پانی چھن جائے اور وہ بغیر باندھے پیر پر نہ رک سکیں یا ان میں ایک میل یا زیادہ بغیر جوتے کے چلنا ممکن نہ ہو تو ایسے موزوں پر بالاجماع مسح جائز نہیں ہے فإن کانا رقیقین یشفّان الماء لا یجوز المسح علیھما بالإجماع (بدائع: ج۱ ص۱۰) لا شک أن المسح علی الخف علی خلاف القیاس فلا یصلح إلحاق غیرہ بہ إلا إذا کان بطریق الدّلالة وھو أن یکون في معناہ و معناہ الساتر لمحلّ الفرض الذي ھو بعدد متابعة المشي فیہ في السفر وغیرہ (فتح القدیر: ج۱ ص۱۰۹) اور جو راویوں پر مسح کرنے کی جتنی بھی حدیثیں ہیں وہ سب ضعیف اور غیر قابل حجت ہیں اور واضح رہے کہ احادیث میں جوربین سے مراد وہ ہیں جن میں مذکورہ تینوں صفتیں ہوں، یعنی وہ اتنے موٹے ہوں کہ ان میں سے پانی نہ چھنے، بغیر باندھے اپنی موٹائی کی بنا پر پنڈلی پر رکے رہیں اور ان میں ایک ایک دو میل بغیر جوتے کے چلنا ممکن ہو۔ اگر آپ کے ائمہ حضرات کو موزے ایسے نہیں ہوتے تو ان کے پیچھے نماز درست نہیں ہے۔ لہٰذا آپ یا تو کسی دوسری مسجد میں ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھیں جہاں امام ایسے موزوں پر مسح کرکے نماز نہ پڑھاتا ہو، یا اور کہیں جماعت کا نظم کریں۔

(۲) ڈرائیور سے پہلے ہی طے کرلیں کہ ہمیں وقت پر دورانِ سفر نمازِ مغرب کا موقع دیں، نماز قضا کرنے کی ایسی صورت میں ہرگز گنجائش نہیں ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات