عبادات - صلاة (نماز)

Canada

سوال # 1817

ہم تین رکعت نماز وتر پڑھتے ہیں۔ لیکن سنن ابی داوٴد کے انگلش ترجمہ میں حدیث نمبر 1417 میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وتر ہر مسلمان پر واجب ہے ، اگر کوئی اس کو پانچ رکعت پڑھنا چاہے تو ایسا کرسکتا ہے اور اگر کوئی تین رکعت پڑھنا چاہے تو اس کو اس کی اجازت ہے۔ اگر کوئی ایک رکعت پڑھنا چاہے تو یہ بھی درست ہے ۔ براہ کرم، اس حدیث کی مفصل توضیح و تشریح فرمائیں۔ ہم کیوں تین رکعت ہی پڑھتے ہیں؟ قرآن و حدیث کے حوالے سے جواب دیں۔

Published on: Aug 6, 2007

جواب # 1817

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى: 345/د = 342/د)


 


حدیث مذکور میں پانچ رکعت کے ذریعہ وتر پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ پہلے دو رکعت سنت یا نفل پڑھ لے پھر تین رکعت وتر پڑھے۔ تین رکعت وتر ہوگی دو سنت یا نفل۔ اس جملہ کا یہی مطلب علماء نے بیان کیا ہے۔ حدیث مذکور کا اگلا جملہ کہ جو شخص تیں رکعت وتر پڑھنا چاہے تو ایسا بھی کرسکتا ہے یعنی ایک سلام سے ہمارے علماء احناف رحمہم اللہ یہی مطلب بیان کرتے ہیں اور اس کے جواز میں کسی امام کا بھی اختلاف نہیں ہے۔ البتہ امام شافعی رحمة اللہ علیہ کے یہاں تین رکعت فصل کرکے پڑھنا افضل ہے۔ حدیث مذکور کا تیسرا جملہ جو شخص ایک رکعت وتر پڑھنا چاہے تو ایسا بھی کرسکتا ہے۔ امام شافعی اور بعض دیگر ائمہ رحمہم اللہ کے نزدیک یہ درست ہے ہمارے علمائے احناف اس کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ دو رکعت پہلے پڑھ کر تیسری رکعت کے ذریعہ اس کو وتر بنالیا جائے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بُتیَراء نماز اور تنہا ایک رکعت نماز پڑھنے کی ممانعت صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ ایک رکعت کوئی نماز نہیں ہوتی عن أبي سعید أن رسول اللّہ صلی اللہ علیہ وسلم نہی عن البتیراء أن یصلي الرجل واحدة یوتر بہا وعن ابن مسعود أنہ قال ما چزأت رکعة قط ایس لیے امام شافعی رحمة اللہ علیہ کے بہت سے اصحاب تنہا ایک رکعت کو مکروہ کہتے ہیں۔ پھر مذکورہ فی السوال حدیث پر موقوف اور مرفوع ہونے کے اعتبار سے بھی محدثین نے کلام کیا ہے۔ تفصیلی بحث کے لیے بذل المجہود کا مطالعہ فرمائیں۔ دیگر یہ کہ خود ابوداوٴد میں مذکور فی السوال حدیث کے بعد دو حدیثیں وتر کی تین رکعتیں ہونے کا ثبوت پیش کررہی ہیں، جس میں پہلی رکعت میں سورہٴ سبح اسم ربک الاعلی دوسری رکعت میں قل یا ایہا الکافرون تیسری رکعت میں قل ھو اللہ احد پڑھنے کا عمل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ ہذا یدل علی أنہ صلی اللہ علیہ وسلم یوتر بثلث رکعات بسلام واحد اور ایک روایت میں یہ صراحت بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیسری کے آخر ہی میں سلام پھیرتے تھے۔ لہٰذا تین رکعت وتر پڑھنا تمام ائمہ کے نزدیک بالاجماع جائز ہے۔ اور امام اعظم ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ کے یہاں واجب ہے اُن احادیث کی بنا پر جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تین رکعتیں پڑھنا ثابت ہے، نیز ایک رکعت نماز کی ممانعت ثابت ہے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات