عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 175841

ایک امام صاحب نے جمعہ کی نماز میں سورہ اعلی میں غلطی سے و یتجنبہا الاشقی کی جگہ و یتجنبہا الاتقی پڑھ دیا، اور الاتقی پر آیت کی اور پھر آگے کی آیت پڑھی تو کیا اس کو نماز کا اعادہ کرنا پڑے گا؟ اگر ہاں تو کیا آئندہ جمعہ کو امام صاحب کو اعلان کرنا پڑے گا اس صورت میں عوام میں تشویش پیدا ہونے کا امکان ہے ۔
براہ مہربانی جمعہ سے پہلے جواب عنایت فرمائیں۔

Published on: Feb 16, 2020

جواب # 175841

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:453-436/L=6/1441



اگر امام صاحب نے ”أتقی“ پر وقف کردیا تھا تو نماز درست ہوگئی اعادہ کی ضرورت نہیں۔



 وصحح الباقانی الفساد إن غیر المعنی نحو. رب رب العالمین للإضافة کما لو بدل کلمة بکلمة وغیر المعنی نحو: إن الفجار لفی جنات(الدر المختار)وفی رد المحتار:وقید الفساد فی الفتح وغیرہ بما إذا لم یقف وقفا تاما، أما لو وقف ثم قال - لفی جنات - فلا تفسد.( الدر المختار مع رد المحتار:۲/ ،ط:زکریا دیوبند) ومنہم من فصَّلہ تفصیلاً، فقال: إن وقف علی الآیة وقفاً تاماً، ثم ابتدأ بآیة أخری لا تفسد. وإن تغیّر المعنی نحو أن یقرأ {وَالتّینِ وَالزَّیْتُونِ} (التین: 1) {وَطُورِ سِینِینَ} (التین: 2) {وَہَذَا الْبَلَدِ الاْمِینِ} (التین: 3) ووقف وقوفاً تاماً، ثم قرأ {لَقَدْ خَلَقْنَا الإِنسَنَ فِی کَبَدٍ} (البلد: 4) ؛ لأن ہذا انتقال من سورة إلی سورة والکل قرآن.(المحیط البرہانی فی الفقہ النعمانی 1/ 326، الناشر: دار الکتب العلمیة، بیروت - لبنان)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات