عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 175739

امام دوسری رکعت میں تشہد پڑھ رہا تھاااسی درمیان مسبوق آکرنماز میں شریک ہوا اورامام تیسرے رکعت کے لئے کھڑا ہوگیا اب مسبوق امام کی اقتدا میں کھڑا ہوگا یا تشہد پڑھے گا اگر تشہد پڑھے بغیر کھڑا ہو گیا تو وہ مکروہ تحریمہ کا مرتکب ہو جائے گا میں نے ایک کتاب میں دیکھا نماز ہو جائے گی جواب مدلل مرحمت فرمائیں۔

Published on: Jan 12, 2020

جواب # 175739

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:431-116/SN=5/1441



آپ نے جو پڑھا وہ صحیح پڑھا ، حکم یہی ہے کہ اگر مسبوق دوسری رکعت کے قعدہ میں امام کے ساتھ نماز میں شریک ہو تو اس پر بھی تشہدپڑھنا ضروری ہے ، اگر تشہد نہ پڑھے تو ترک ِواجب کا مرتکب ہوگا ؛ البتہ اس کی نماز واجب الاعادہ نہ ہوگی، اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ مسبوق بھی بہ حکم مقتدی ہوتا ہے اور مقتدی کی غلطی اگرچہ ترک واجب کی شکل میں ہو موجب اعادہ نہیں ہوتی، فقہائے کرام کی عبارات سے ایسا ہی معلوم ہوتا ہے ۔



 (لو رفع الإمام رأسہ)...( قبل أن یتم المأموم التسبیحات) الثلاث (وجب متابعتہ)...(بخلاف سلامہ) أوقیامہ لثالثة (قبل تمام المؤتم التشہد) فإنہ لایتابعہ بل یتمہ لوجوبہ ، ولولم یتم جاز...قولہ وجب متابعتہ) أی فی الأصح من الروایتین کما فی البحر.... (قولہ فإنہ لایتابعہ إلخ) أی ولو خاف أن تفوتہ الرکعة الثالثة مع الإمام کما صرح بہ فی الظہیریة، وشمل بإطلاقہ ما لواقتدی بہ فی أثناء التشہد الأول أو الأخیر، فحین قعد قام إمامہ أو سلم ، ومقتضاہ أنہ یتم التشہد ثم یقوم ولم أرہ صریحا ، ثم رأیتہ فی الذخیرة ناقلا عن أبی اللیث: المختار عندی أنہ یتم التشہد وإن لم یفعل أجزأہ اہ وللہ الحمد (قولہ لوجوبہ) أی لوجوب التشہد کما فی الخانیة وغیرہا، ومقتضاہ سقوط وجوب المتابعة کما سنذکرہ وإلا لم ینتج المطلوب فافہم (قولہ ولولم یتم جاز) أی صح مع کراہة التحریم کما أفادہ ح لا، ونازعہ ط والرحمتی ، وہومفاد ما فی شرح المنیة حیث قال: والحاصل أن متابعة الإمام فی الفرائض والواجبات من غیر تأخیر واجبة فإن عارضہا واجب لاینبغی أن یفوتہ ؛ بل یأتی بہ ثم یتابعہ ؛لأن الإتیان بہ لا یفوت المتابعة بالکلیة وإنما یؤخرہا، والمتابعة مع قطعہ تفوتہ بالکلیة ، فکان تأخیرأحد الواجبین مع الإتیان بہما أولی من ترک أحدہما بالکلیة ، بخلاف ما إذا عارضتہا سنة لأن ترک السنة أولی من تأخیر الواجب. اہ إلی آخر ما فی الدر المختار وحاشیتہ لابن عابدین . (2/200،ط: زکریا، دیوبند) نیزدیکھیں:احسن الفتاوی3/376? ، 3/312?، ط: زکریا)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات