عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 175668

کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں سورہ فاتحہ کے بعدآمین آوازسے کہناسنت ہے یاآہستہ؟

Published on: Jan 2, 2020

جواب # 175668

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 393-317/D=05/1441



نماز میں سورہٴ فاتحہ کے بعد آمین کہنا بالاتفاق مسنون ہے، اور علماء کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ سری اور انفرادی نمازوں میں آمین آہستہ کہی جائے گی، جہری نمازوں میں اختلاف ہے، اور یہ اختلاف جواز و عدم جواز کا نہیں، بلکہ اولیٰ و غیر اولیٰ کا ہے، احناف و مالکیہ کے نزدیک جہری نمازوں میں آہستہ آمین کہی جائے گی، احناف کا یہ موقف قرآن و حدیث سے موٴید ہے، لفظ آمین ایک دعا ہے جس کے معنی ہیں: اے اللہ! تو قبول فرما، اور آیت قرآنی سے پتہ چلتا ہے کہ دعا میں اصل اور افضل آہستہ مانگنا ہے، قال تعالی: ادعوا ربکم تضرعاً وخفیة ۔ ترجمہ: پکارو اپنے رب کو گڑگڑا کر اور چپکے سے۔ ترمذی کی حدیث ہے: عن علقمة بن وائل عن أبیہ أن النبي - صلی اللہ علیہ وسلم - قرأ غیر المغضوب علیہم ولا الضالین ، فقال آمین وخفض بہا صوتہ ۔ (ترمذی: ۱/۳۴، باب ما جاء في التأمین، رقم: ۲۴۸) امام طبری فرماتے ہیں: اکثر صحابہ و تابعین آہستہ سے کہا کرتے تھے۔ (اعلاء السنن: ۲/۲۲۳)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات