عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 175604

ہندوستان کی مسجدوں میں مغرب کی اذان کے فوراً بعد جماعت ہوتی ہے جب کہ سعودی عرب میں دس منٹ کا وقت دیا جاتاہے، ہمارا گھر مسجد کے بہت قریب ہے، لیکن مسجد میں پہنچنے میں دو منٹ لگ جاتے ہیں ، تو ایک رکعت چھوٹ جاتی ہے، کیا یہ ضروری ہے کہ امام اذان کے وقت سے دس منٹ کا وقت دے سکتے ہیں جس کی وجہ سے بہت سارے قریب کے لوگ جماعت کی نماز میں شامل ہوجائیں؟

Published on: Jan 2, 2020

جواب # 175604

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:364-51/N=5/1441



سعودی عرب میں اکثریت حنابلہ کی ہے اور ان کے یہاں مغرب میں فرض سے پہلے ۲/ رکعت نفل ہیں ؛ اس لیے وہ اذان کے بعد ۲/ رکعت کے لیے وقفہ کرتے ہیں؛ جب کہ احناف کے یہاں مغرب کی نماز میں تعجیل افضل ومسنون ہے اور بلا عذر ومجبوری ڈیڑھ، ۲/ منٹ سے زیادہ تاخیر بھی کراہت سے خالی نہیں، اور ہندوستان میں اکثریت احناف کی ہے؛ اس لیے ہندوستان کی مساجد میں اذان کے فوراً بعد دو، تین/ آیتوں کے بہ قدر وقفہ کرکے نماز کھڑی کردی جاتی ہے۔ اور آپ جب مسجد کے قریب رہتے ہیں تو آپ اذان شروع ہوتے ہی مسجد کے لیے روانہ ہوجایا کریں، اذان ختم ہونے کا انتظار نہ کیا کریں؛ بلکہ آج کل ہر ایک کے پاس موبائل میں گھڑی ہوتی ہے؛ لہٰذا جب اذان میں پانچ دس منٹ رہ جائیں تو مغرب کی تیاری شروع کردیا کریں اور اذان مسجد پہنچ کر ہی سنا کریں ، اس میں آپ کی رکعت نہیں چھوٹے گی؛ بلکہ آپ تکبیر اولی اور صف اول بھی پاسکتے ہیں۔ اسی طرح دیگر لوگوں کو بھی چاہیے کہ مغرب میں اذان یا کم از کم اقامت سے پہلے مسجد پہنچنے کی کوشش کیا کریں۔



قلت:وتکرہ أن یوٴخرھا إذا غابت الشمس؟ قال: نعم (کتاب الأصل، ۱: ۱۲۳،ط: مصر)، قلت:أرأیت المغرب أیوٴخرھا بعد غروب الشمس شیئاً؟ قال: أکرہ لہ أن یوٴخرھا إذا غربت الشمس، والشتاء والصیف سواء (المصدر السابق، ص: ۱۲۴)، فأما صلاة المغرب فالمستحب تعجیلھا في کل وقت، وقد بینا أن تأخیرھا مکروہ، وکان عیسی بن أبان رحمہ اللہ تعالی یقول: الأولی تعجیلھا للآثار ولکن لا یکرہ التأخیر مطلقاً ألا تری الخ (المبسوط للسرخسي، ۱: ۱۴۷، ط: دار المعرفة، بیروت)، وبہ نقول: إنہ یکرہ تأخیر المغرب بعد غروب الشمس إلا بقدر ما یستبریٴ فیہ الغروب رواہ الحسن عن أبي حنیفة رحمھا اللہ تعالی لقولہ صلی اللہ علیہ وسلم: لا تزال أمتي بخیر ما عجلوا المغرب وأخروا العشاء الخ (المصدر السابق ص: ۱۴۴)، تاخیر المغرب مکروہ إلا بعذر السفر أو بأن کان علی المائدة، البدایة بصلاة المغرب أولی من صلاة الجنازة (الفتاوی السراجیة، ص: ۵۷، ط: مکتبة الاتحاد دیوبند)، وتأخیرہ قدر رکعتین یکرہ تنزیھا (سکب الأنھر مع المجمع، ۱: ۲۹، ط: دار الکتب العلمیہ بیروت)، ومثلہ فی الدر المختار (مع رد المحتار، ۲:۲۹، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، وفی الحلبة بعد کلام: والظاھر أن السنة فعل المغرب فوراً الخ (رد المحتار، ۲: ۲۷)، إلا فی المغرب فیسکت قائماً قدر ثلاث آیات قصار( الدر المختار مع رد المحتار، ۲:۵۶)، ویستحب تعجیل صلاة المغرب صیفاً وشتاء ولا یفصل بین الأذان والإقامة فیہ إلا بقدر ثلاث آیات أو جلسة خفیفة لصلاة جبریل علیہ السلام بالنبي صلی اللہ علیہ وسلم بأول الوقت فی الیومین الخ (مراقی الفلاح مع حاشیة الطحطاوي علیہ، ص: ۱۸۳، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)، قولہ: ”ولا یفصل بین الأذان والإقامة الخ“: ولو بمقدار صلاة رکعتین کرہ ککراھة صلاة رکعتین قبلھا، وما فی القنیة من استثناء القلیل یحمل علی ما ھو الأقل من قدرھما توفیقاً بین کلامھم کما فی النھر عن الفتح (حاشیة الطحطاوي علی المراقي)، وانظر تبیین الحقائق (۱: ۸۴، ط: المکتبة الإمدادیة، ملتان) وفتح القدیر (۱: ۳۱۸، ط: مصر) وغیرھما من کتب المذھب وفتاوی دار العلوم دیوبند (۲: ۳۷- ۳۹، رقم السوٴال:۲۵، ط: مکتبة دار العلوم دیوبند) أیضاً۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات