عبادات - صلاة (نماز)

india

سوال # 175506

قنوت نازلہ کم سے کم ، یا زیادہ سے زیادہ کتنے دن پڑھنا مشروع ہے؟. دور نبوی میں زیادہ سے زیادہ کتنے دن پڑھنا ثابت ہے ؟. کیا ہندوستان میں حالات کے پیش نظر مستقلاً روزانہ پڑھ سکتے ہیں ؟

Published on: Dec 3, 2019

جواب # 175506

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:254-211/N=4/1441



(۱): قنوت نازلہ کے لیے شریعت میں کم سے کم یا زیادہ سے زیادہ مدت کی کوئی تعیین نہیں ہے؛ بلکہ جب تک حالات سازگار نہ ہوں، پڑھ سکتے ہیں۔



(۲): حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک خاص موقعہ پر ایک ماہ تک قنوت نازلہ پڑھنا ثابت ہے؛ لیکن یہ تحدید کے لیے نہیں تھا۔



(۳): ہندوستان کے موجودہ حالات ایسے نہیں ہیں، جن میں قنوت نازلہ پڑھنے کی ضرورت ہو۔ قنوت نازلہ اُس وقت پڑھی جاتی ہے، جب مسلمان عمومی طور پر کفار کی طرف سے کسی ایسی مصیبت وپریشانی کا شکار ہوجائیں، جو انتہائی ناقابل برداشت ہواور اس کی وجہ سے مسلمان سخت ضیق میں مبتلا ہوں۔ اور موجودہ حالات میں ہندوستان کے عام مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے دینی احوال درست کریں اور رجوع الی اللہ کا اہتمام کریں اور اکابرین ملت ،ملت کے لیے جو ظاہری کوششیں وتدابیر کررہے ہیں، ان میں ان کے لیے کام یابی وسرخ روئی وغیرہ کی دعائیں بھی کریں، اللہ تعالی توفیق عطا فرمائیں۔



عن أنس بن مالک رضي اللّٰہ عنہ قال: ”قنت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم شہراً بعد الرکوع في صلاة الصبح، یدعو علی رعل وذکوان“، ویقول: ”عصیة عصت اللّٰہ ورسولہ“ ( إعلاء السنن، ۶:۹۵نقلاً عن الصحیحین، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)، عن عاصم عن أنس رضي اللّٰہ عنہ إنما قنت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم (أي الفجر) شہراً یدعو علی أناس، قتلوا أناساً من أصحابہ، یقال لہم القراء (إعلاء السنن، ۶:۹۵نقلاً عن الصحیحین)، عن عاصم بن سلیمان قلنا لأنس: إن قوماً یزعمون أن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم لم یزل یقنت في الفجر، فقال: کذبوا، إنما قنت شہراً واحداً یدعو علی حي من أحیاء المشرکین (إعلاء السنن، ۶:۹۶نقلاً عن التلخیص الحبیر)، ووفق شیخنا بین روایة الطحاوي عن أئمتنا أولا وبین ما حکی عنہ شارح ”المنیة“ بأن القنوت في الفجر لا یشرع لمطلق الحرب عندنا، وإنما یشرع لبلیة شدیدة تبلغ بہا القلوب الحناجر واللّٰہ أعلم، ولو لا ذٰلک للزم الصحابةالقائلین بالقنوت النازلة أن یقنتوا أبداً، ولا یترکوہ یوماً، لعدم خلو المسلمین عن نازلة ما غالباً لا سیما في زمن الخلفاء الأربعة (المصدر السابق، ص: ۱۱۶)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات