عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 17352



الأذان
تسع عشرة کلمة والإقامة سبع عشرة کلمة
میں نہیں سمجھ سکا کہ کیسے اذان میں
انیس الفاظ ہیں اور اقامت میں سترہ۔ برائے کرم وضاحت فرماویں۔



Published on: Dec 16, 2009

جواب # 17352

بسم الله الرحمن الرحيم



فتوی(د):0000-0000-12/1430



 



حضرت
ابومحذورہ کی پیش کردہ روایت جس میں اذان میں
۱۹/کلمات کا ذکرہے، اس میں ۴/ مرتبہ ترجیع کا اضافہ
ہے۔ ترجیع کا مطلب ہے کہ شہادتین آہستہ کہنے کے بعد اس کو دوبارہ بلند آواز سے کہا
جاوے۔ اس طر چار مرتبہ شہادتین سے کلمات اذان
۱۹ ہوجائیں گے۔ اقامت میں
ترجیع نہیں۔ البتہ قد قامت الصلاة کا دو مرتبہ کہنا زائد ہے، اس لیے کلمات اقامت
۱۷ ہوجائیں گے۔ احناف کے
یہاں ترجیع پر عمل نہیں ہے اس لیے کہ حضرت ابومحذورہ کی روایت میں تعارض ہے۔ خود
ان سے طبرانی میں بغیر ترجیع کے اذان منقول ہے۔ نیز موذن رسول اللہ حضرت بلال کے
متعلق تمام روایات متفق ہیں کہ وہ اذان میں ترجیع نہیں کرتے تھے۔ اور مشروعیت اذان
والی روایت کے کسی طریق میں خواب میں آنے والے فرشتے کا ترجیع کرنا نہیں آیا۔ اس
کے علاوہ حضرت ابن عمر کی روایت ابوداوٴد میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے
زمانہ میں کلماتِ اذان دو دو مرتبہ کہے جاتے تھے۔ ان دلائل کی بنیاد پر احناف
ترجیع کی سنیت کے قائل نہیں، البتہ جواز میں کوئی کلام نہیں۔




واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات