عبادات - صلاة (نماز)

India

سوال # 17345



میرا
نام اسعداللہ خان ہے۔میں اپنے لنچ کے وقفہ کے درمیان نماز ظہر او رنماز جمعہ ادا
کرتا ہوں۔ بالکل مختصر وقت میں ہم صرف فرض نماز پڑھتے ہیں اور جلدی سے دعا کا
انتظار کئے بغیر اپنی کمپنی میں چلے جاتے ہیں۔ آج 16.10.09کو خطبہ جمعہ کے بعد فرض
کی تکبیر سے بالکل پہلے امام صاحب نے ایک آخری وارننگ دی کہ اگر دعا میں شریک نہیں
ہونا ہے تو اس مسجدمیں مت آؤ۔ اور اس معاملہ میں ان کے ساتھ بات چیت کرنے کے بعد
وہ ہمارے اوپر ناراض ہوگئے اور کہا کہ وہ ان تمام لوگوں کے خلاف جہاد کا اعلان
کرنے جارہے ہیں جو دعا میں شریک نہیں ہورہے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ اس بارے میں
ہماری شریعت کیا کہتی ہے ، جب کہ ہم کو ڈیوٹی پر پہنچنے میں صرف دو منٹ کا وقت
بچتا ہے؟کسی بھی صورت میں ہمارے لنچ کا وقفہ ہم کو دعا میں شامل ہونے کی اجازت نہیں
دے سکتا ہے۔ کیا اس مسجدکے امام صاحب کو اس بات کے اعلان کرنے کا اور لوگوں کو
زبردستی روکنے کا حق ہے؟ برائے کرم جلد اپنا جواب ارسال فرماویں تاکہ ہم شریعت کی
روشنی میں اس معاملہ کو امام صاحب کے ساتھ حل کرسکیں؟



Published on: Nov 16, 2009

جواب # 17345

بسم الله الرحمن الرحيم



فتوی(د):2085=1659-11/1430



 



فرض
نمازوں کے بعد دعا کرنا سنت ہے احادیث سے ثابت ہے جو اللھم أنت السلام ومنک السلام
تبارکت یا ذا الجلال والإکرام کے الفاظ کے ذریعہ یا اس کے بقدر دعا کرلینے سے بھی
پوری ہوجاتی ہے۔ اجتماعی دعا کا اہتمام کرنا، لوگوں کو اس لیے روکنا، اخیر تک بیٹھنے
پر اصرار کرنا درست نہیں ہے، آپ اپنی مختصر دعا کرکے آسکتے ہیں۔ امام صاحب نے کیا
اعلان کیا ان سے لکھواکر منسلک کریں، تو اس کا تفصیلی حکم لکھ دیا جائے گا۔




واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات